حدیث نمبر: 10289
حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنْبَاعِ رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ الْمِصْرِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ الْجُعْفِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ الْجُعْفِيُّ، ثنا عَمِّي أَبُو مُسْلِمٍ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ سَعِيدٍ الْجُعْفِيُّ، قَائِدُ الْأَعْمَشِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي غُرْفَةٍ كَأَنَّهَا بَيْتُ حَمَامٍ، وَهُوَ نَائِمٌ عَلَى حَصِيرٍ قَدْ أَثَّرَ بِجَنْبِهِ، فَبَكَيْتُ، فَقَالَ: «مَا يُبْكِيكَ يَا عَبْدَ اللهِ؟» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، كِسْرَى وَقَيْصَرُ يَطَئُونَ عَلَى الْخَزِّ وَالْحَرِيرِ وَالدِّيبَاجِ، وَأَنْتَ نَائِمٌ عَلَى هَذَا الْحَصِيرِ قَدْ أَثَّرَ بِجِنْبِكَ، قَالَ: «فَلَا تَبْكِ يَا عَبْدَ اللهِ؛ فَإِنَّ لَهُمُ الدُّنْيَا وَلَنَا الْآخِرَةَ، وَمَا أَنَا وَالدُّنْيَا، وَمَا مَثَلِي وَمَثَلُ الدُّنْيَا إِلَّا كَمَثَلِ رَاكِبٍ نَزَلَ تَحْتَ شَجَرَةٍ ثُمَّ سَارَ وَتَرَكَهَا»
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کے پاس اس حال میں گیا کہ آپ ایک ایسے کمرے میں تھے جو گویا حمام کا کمرہ تھا، اور آپ ایک چٹائی پر سو رہے تھے جس نے آپ کے پہلو پر نشان ڈال دیا تھا، تو میں رو پڑا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے عبداللہ! تمہیں کس چیز نے رلایا؟“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کسریٰ اور قیصر ریشم اور دیباج پر چلتے ہیں، اور آپ اس چٹائی پر سو رہے ہیں جس نے آپ کے پہلو پر نشان ڈال دیا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے عبداللہ! مت رو؛ ان کے لیے دنیا ہے اور ہمارے لیے آخرت ہے، اور میرا اور دنیا کا کیا تعلق، میری مثال اور دنیا کی مثال تو صرف اس سوار کی طرح ہے جو ایک درخت کے نیچے اترا، پھر چل پڑا اور اسے چھوڑ گیا۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 10289
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 10، صفحہ 162، حدیث 10327