❮
❯
حدیث نمبر: 1025
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، أَخْبَرَنِي أَشْعَثُ بْنُ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: «جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي بَيْنَ أُسَامَةَ وَبِلَالٍ حَتَّى دَخَلَا الْكَعْبَةَ وَفِيهَا خَشَبَةٌ مُعْتَرِضَةٌ» فَلَمَّا خَرَجَ بِلَالٌ سَأَلْتُهُ: كَيْفَ صَنَعَ، قَالَ: «تَرَكَ مِنَ الْخَشَبَةِ ثُلُثَيْهَا عَنْ يَمِينِهِ وَصَلَّى فِي الثُّلُثِ الْبَاقِي» ، قُلْتُ: كَمْ صَلَّى؟ قَالَ: «لَمْ أَسْأَلْ بِلَالًا عَنْهَا»
ترجمہ

ابوالشعثاء بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو یہ کہتے سنا: ”نبی کریم ﷺ اسامہ اور بلال رضی اللہ عنہما کے درمیان چلتے ہوئے تشریف لائے یہاں تک کہ دونوں کعبے میں داخل ہوئے، اس میں ایک آڑی لکڑی تھی“ پھر جب بلال رضی اللہ عنہ باہر نکلے تو میں نے ان سے پوچھا کہ آپ ﷺ نے کیا کیا؟ انہوں نے کہا: ”آپ ﷺ نے لکڑی کے دو تہائی حصے کو اپنے دائیں جانب چھوڑا اور باقی ایک تہائی میں نماز پڑھی“ (ابوالشعثاء کہتے ہیں:) میں نے پوچھا: کتنی رکعتیں پڑھیں؟ تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: ”میں نے بلال سے یہ نہیں پوچھا۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الباء / حدیث: 1025
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 343، حدیث 1029