حدیث نمبر: 1024
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ الْوَلِيدِ، ثنا فُضَيْلُ بْنُ غَزْوَانَ، ثنا أَبُو دُهْقَانَةَ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ، فَذَكَرَ ابْنُ عُمَرَ، أَنَّ بِلَالًا حَدَّثَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَهُ ضَيْفٌ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَأْتِيَهُ بِطَعَامٍ، فَأَتَاهُ بِتَمْرٍ، فَأَعْجَبَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ التَّمْرُ، فَقَالَ: «مِنْ أَيْنَ لَكَ هَذَا التَّمْرُ؟» فَقَالَ: أَبْدَلْتُ صَاعًا بِصَاعَيْنِ، فَقَالَ: «رُدَّ عَلَيْنَا تَمْرَنَا» فَرَدَّهُ
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک مہمان آیا، تو آپ ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ کھانا لے آئیں، وہ کھجور لے آئے، رسول اللہ ﷺ کو وہ کھجور بہت پسند آئی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ کھجور تمہیں کہاں سے ملی؟“ انہوں نے عرض کیا: میں نے ایک صاع کے بدلے دو صاع دے کر بدلی کی تھی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہماری کھجور ہمیں واپس کر دو“ تو انہوں نے اسے واپس کر دیا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الباء / حدیث: 1024
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 342، حدیث 1028