حدیث نمبر: 10221
حَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْأُسَارَى اسْتَشَارَ فِيهِمُ النَّاسَ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ حَبَشٍ: أَعْدَاءُ اللهِ كَذَّبُوكَ وَآذَوْكَ وَأَخْرَجُوكَ وَقَاتَلُوكَ، وَأَنْتَ بِوَادٍ كَثِيرِ الْحَطَبِ فَاجْمَعْ لَهُمْ حَطَبًا كَثِيرًا فَأَضْرِمْهُ عَلَيْهِمْ نَارًا، فَذَكَرَ مِثْلَ حَدِيثِ زَائِدَةَ، إِلَّا أَنَّهُ جَعَلَ مَوْضِعَ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَوَاحَةَ عَبْدَ اللهِ بْنَ حَبَشٍ، وَالصَّوَابُ عَبْدُ اللهِ بْنُ حَبَشٍ
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب رسول اللہ ﷺ قیدیوں کو لے کر آئے تو آپ نے ان کے بارے میں لوگوں سے مشورہ کیا، تو عبداللہ بن حبش نے عرض کیا: اللہ کے دشمنوں نے آپ کو جھٹلایا، آپ کو ایذا دی، آپ کو نکالا اور آپ سے جنگ کی، اور آپ کھجور کی بہت سی لکڑی والی وادی میں ہیں تو ان کے لیے بہت سی لکڑیاں جمع کر کے انہیں آگ لگا دیں، پھر راوی نے زائدہ کی حدیث کی طرح بیان کیا، سوائے اس کے کہ انہوں نے عبداللہ بن رواحہ کی جگہ عبداللہ بن حبش کا نام لیا۔
اور درست نام عبداللہ بن حبش ہی ہے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 10221
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 10، صفحہ 143، حدیث 10259