حدیث نمبر: 1021
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ سَيْحَانَ، حَدَّثَنَا حَرْبُ بْنُ مَيْمُونٍ، ثنا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَادَ بِلَالًا، فَأَخْرَجَ لَهُ صُبْرًا مِنْ تَمْرٍ، فَقَالَ: «مَا هَذَا يَا بِلَالُ؟» قَالَ: ادَّخَرْتُهُ لَكَ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: «أَمَا تَخْشَى أَنْ يُجْعَلَ لَكَ بُخَارٌ فِي نَارِ جَهَنَّمَ، أَنْفِقْ بِلَالُ، وَلَا تَخْشَ مِنْ ذِي الْعَرْشِ إِقْلَالًا»
ترجمہ

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے تشریف لائے تو انہوں نے کھجوروں کا ڈھیر نکالا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ کیا ہے اے بلال؟“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے یہ آپ کے لیے جمع کر رکھی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تمہیں ڈر نہیں کہ اس کی وجہ سے تمہارے لیے جہنم کی آگ میں دھواں بنا دیا جائے، خرچ کرو بلال، اور عرش والے سے کمی کا خوف نہ کرو۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الباء / حدیث: 1021
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 342، حدیث 1025