المعجم الكبير للطبراني
باب الباء— حرف با سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
أبو هريرة، عن بلال رضي الله عنهما باب: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے روایت
حدیث نمبر: 1020
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا بَكَّارُ بْنُ مُحَمَّدٍ السِّرِينِيُّ، ثنا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى بِلَالٍ، فَوَجَدَ عِنْدَهُ صُبْرًا مِنْ تَمْرٍ، فَقَالَ: «مَا هَذَا يَا بِلَالُ؟» فَقَالَ: تَمْرٌ أَدَّخِرُهُ، قَالَ: «وَيْحَكَ يَا بِلَالُ، أَوَمَا تَخَافُ أَنْ يَكُونَ لَهُ بُخَارٌ فِي النَّارِ؟ أَنْفِقْ يَا بِلَالُ، وَلَا تَخْشَ مِنْ ذِي الْعَرْشِ إِقْلَالًا»ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے تو ان کے پاس کھجوروں کا ڈھیر پایا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ کیا ہے اے بلال؟“ انہوں نے عرض کیا: یہ کھجور ہے جو میں نے جمع کر رکھی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم پر افسوس اے بلال، کیا تمہیں ڈر نہیں کہ اس کی وجہ سے آگ میں دھواں ہو؟ خرچ کرو اے بلال، اور عرش والے سے کمی کا خوف نہ کرو۔“