حدیث نمبر: 10025
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ دَاوُدَ الْأَوْدِيِّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، فِي قَوْلِهِ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ} [النساء: ٢٩] ، قَالَ: إِنَّهَا مُحْكَمَةٌ مَا نُسِخَتْ
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، اللہ تعالیٰ کے فرمان ”اے ایمان والو! آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق طریقے سے مت کھاؤ، سوائے اس کے کہ تمہاری باہمی رضامندی سے کوئی تجارت ہو“ [سورۃ النساء: 29] کے بارے میں فرمایا: یہ آیت محکم ہے، اسے منسوخ نہیں کیا گیا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 10025
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 10، صفحہ 93، حدیث 10061