قَالَ إِسْحَاقُ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سِنَانِ بْنِ أَبِي سِنَانٍ أَنَّهُ سَمِعَ الْحُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يُحَدِّثُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَبَّأَ لِابْنِ صَايِدٍ دُخَانًا ، فَسَأَلَهُ عَمَّا خَبَّأَ لَهُ ، فَقَالَ لَهُ : دُخٌّ ، فَقَالَ : اخْسَأْ ، فَلَنْ تَعْدُوَ قَدْرَكَ فَلَمَّا وَلَّى قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا قَالَ ؟ فَقَالَ بَعْضُهُمْ : دُخٌّ ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ : دِيخٌ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قَدِ اخْتَلَفْتُمْ وَأَنَا بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ ، وَأَنْتُمْ بَعْدِي أَشَدُّ اخْتِلَافًا .
ترجمہ
سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ابن صائد کے امتحان کے لیے اپنے دل میں «دُخَانًا» ”دھواں“ چھپا کر رکھا، پھر آپ ﷺ نے اس سے دریافت فرمایا کہ میں نے تیرے لیے کیا بات پوشیدہ رکھی ہے؟ اس نے (شیاطین کی مدد سے ادھورا لفظ بتاتے ہوئے) کہا: «دُخٌّ» ”دُخ“، تو آپ ﷺ نے اس سے فرمایا: ”ذلیل و خوار ہو کر دور ہو جا، تو اپنی بساط اور اوقات سے ہرگز آگے نہیں بڑھ پائے گا۔“ پھر جب وہ پیٹھ پھیر کر چلا گیا تو نبی کریم ﷺ نے صحابہ سے دریافت فرمایا: ”اس نے کیا کہا تھا؟“ بعض نے عرض کیا کہ اس نے «دُخٌّ» ”دُخ“ کہا تھا اور بعض نے کہا کہ اس نے «دِيخٌ» ”دیخ“ کہا تھا، تب نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم لوگ میری موجودگی میں ہی باہم اختلاف کر رہے ہو، تو میرے بعد تو تمہارا اختلاف اس سے بھی کہیں زیادہ شدید ہو جائے گا۔“
اس حدیث کی سند حسن ہے، اسے امام اسحاق بن راہویہ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے اور اس واقعے کی اصل صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں بھی موجود ہے۔
اس حدیث کی سند حسن ہے، اسے امام اسحاق بن راہویہ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے اور اس واقعے کی اصل صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں بھی موجود ہے۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَرْزُوقٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، عَنِ الصَّلْتِ بْنِ بَهْرَامٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ ، حَدَّثَنَا جُنْدُبٌ الْبَجَلِيُّ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ ، قَالَ : إِنَّ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حَدَّثَهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ قَرَأَ الْقُرْآنَ حَتَّى إِذَا رَأَيْتَ بَهْجَتَهُ عَلَيْهِ وَكَانَ رِدْءًا لِلْإِسْلَامِ انْسَلَخَ مِنْهُ وَنَبَذَهُ وَرَاءَ ظَهْرِهِ ، وَسَعَى عَلَى جَارِهِ بِالسَّيْفِ ، وَرَمَاهُ بِالشِّرْكِ . قُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللهِ ، أَيُّهُمَا أَوْلَى بِالشِّرْكِ ؛ الرَّامِي أَوِ الْمَرْمِيُّ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : بَلِ الرَّامِي .
ترجمہ
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”مجھے تمہارے متعلق جس فتنے کا سب سے زیادہ اندیشہ ہے وہ ایسا شخص ہے جس نے قرآن پڑھا، یہاں تک کہ جب تم اس پر قرآن کا حسن و جمال اور رونق دیکھو گے اور وہ اسلام کا مددگار و محافظ بن جائے گا تو وہ اچانک اس سے بالکل نکل بھاگے گا، اسے اپنی پشت کے پیچھے پھینک دے گا، اپنے پڑوسی پر تلوار سونت کر حملہ آور ہوگا اور اس پر شرک کی تہمت لگائے گا۔“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! ان دونوں میں سے کون شرک کا زیادہ سزاوار ہوگا؛ تہمت لگانے والا یا وہ جس پر تہمت لگائی گئی؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بلکہ تہمت لگانے والا ہی (اس کا زیادہ مستحق) ہوگا۔“
اس حدیث کو امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، نیز امام ابن حبان نے اسے اپنی صحیح میں نقل کیا ہے اور یہ روایت سنداً جید ہے۔
اس حدیث کو امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، نیز امام ابن حبان نے اسے اپنی صحیح میں نقل کیا ہے اور یہ روایت سنداً جید ہے۔