المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتن— فتنوں کا بیان۔
بَابُ كَرَاهِيَةِ الِاخْتِلَافِ باب: اختلاف کی کراہت کا بیان۔
قَالَ إِسْحَاقُ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سِنَانِ بْنِ أَبِي سِنَانٍ أَنَّهُ سَمِعَ الْحُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يُحَدِّثُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَبَّأَ لِابْنِ صَايِدٍ دُخَانًا ، فَسَأَلَهُ عَمَّا خَبَّأَ لَهُ ، فَقَالَ لَهُ : دُخٌّ ، فَقَالَ : اخْسَأْ ، فَلَنْ تَعْدُوَ قَدْرَكَ فَلَمَّا وَلَّى قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا قَالَ ؟ فَقَالَ بَعْضُهُمْ : دُخٌّ ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ : دِيخٌ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قَدِ اخْتَلَفْتُمْ وَأَنَا بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ ، وَأَنْتُمْ بَعْدِي أَشَدُّ اخْتِلَافًا .سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ابن صائد کے امتحان کے لیے اپنے دل میں «دُخَانًا» ”دھواں“ چھپا کر رکھا، پھر آپ ﷺ نے اس سے دریافت فرمایا کہ میں نے تیرے لیے کیا بات پوشیدہ رکھی ہے؟ اس نے (شیاطین کی مدد سے ادھورا لفظ بتاتے ہوئے) کہا: «دُخٌّ» ”دُخ“، تو آپ ﷺ نے اس سے فرمایا: ”ذلیل و خوار ہو کر دور ہو جا، تو اپنی بساط اور اوقات سے ہرگز آگے نہیں بڑھ پائے گا۔“ پھر جب وہ پیٹھ پھیر کر چلا گیا تو نبی کریم ﷺ نے صحابہ سے دریافت فرمایا: ”اس نے کیا کہا تھا؟“ بعض نے عرض کیا کہ اس نے «دُخٌّ» ”دُخ“ کہا تھا اور بعض نے کہا کہ اس نے «دِيخٌ» ”دیخ“ کہا تھا، تب نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم لوگ میری موجودگی میں ہی باہم اختلاف کر رہے ہو، تو میرے بعد تو تمہارا اختلاف اس سے بھی کہیں زیادہ شدید ہو جائے گا۔“
اس حدیث کی سند حسن ہے، اسے امام اسحاق بن راہویہ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے اور اس واقعے کی اصل صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں بھی موجود ہے۔