المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتن— فتنوں کا بیان۔
بَابُ كَرَاهِيَةِ الِاخْتِلَافِ باب: اختلاف کی کراہت کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَرْزُوقٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، عَنِ الصَّلْتِ بْنِ بَهْرَامٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ ، حَدَّثَنَا جُنْدُبٌ الْبَجَلِيُّ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ ، قَالَ : إِنَّ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حَدَّثَهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ قَرَأَ الْقُرْآنَ حَتَّى إِذَا رَأَيْتَ بَهْجَتَهُ عَلَيْهِ وَكَانَ رِدْءًا لِلْإِسْلَامِ انْسَلَخَ مِنْهُ وَنَبَذَهُ وَرَاءَ ظَهْرِهِ ، وَسَعَى عَلَى جَارِهِ بِالسَّيْفِ ، وَرَمَاهُ بِالشِّرْكِ . قُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللهِ ، أَيُّهُمَا أَوْلَى بِالشِّرْكِ ؛ الرَّامِي أَوِ الْمَرْمِيُّ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : بَلِ الرَّامِي .سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”مجھے تمہارے متعلق جس فتنے کا سب سے زیادہ اندیشہ ہے وہ ایسا شخص ہے جس نے قرآن پڑھا، یہاں تک کہ جب تم اس پر قرآن کا حسن و جمال اور رونق دیکھو گے اور وہ اسلام کا مددگار و محافظ بن جائے گا تو وہ اچانک اس سے بالکل نکل بھاگے گا، اسے اپنی پشت کے پیچھے پھینک دے گا، اپنے پڑوسی پر تلوار سونت کر حملہ آور ہوگا اور اس پر شرک کی تہمت لگائے گا۔“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! ان دونوں میں سے کون شرک کا زیادہ سزاوار ہوگا؛ تہمت لگانے والا یا وہ جس پر تہمت لگائی گئی؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بلکہ تہمت لگانے والا ہی (اس کا زیادہ مستحق) ہوگا۔“
اس حدیث کو امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، نیز امام ابن حبان نے اسے اپنی صحیح میں نقل کیا ہے اور یہ روایت سنداً جید ہے۔