❮
❯
حدیث نمبر: 4229
قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَعْلَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُؤَمَّلِ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : كَانَ أَوَّلُ إِسْلَامِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : ضَرَبَ أُخْتِي الْمَخَاضُ لَيْلًا ، فَخَرَجْتُ مِنَ الْبَيْتِ فَدَخَلْتُ فِي أَسْتَارِ الْكَعْبَةِ فِي لَيْلَةٍ قَارَّةٍ ، قَالَ : فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ الْحِجْرَ وَعَلَيْهِ نَعْلَاهُ ، فَصَلَّى مَا شَاءَ اللهُ ثُمَّ انْصَرَفَ ، قَالَ : فَسَمِعْتُ شَيْئًا لَمْ أَسْمَعْ مِثْلَهُ ، فَخَرَجْتُ فَاتَّبَعْتُهُ ، فَقَالَ : مَنْ هَذَا ؟ قَالَ : عُمَرُ ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا عُمَرُ ، مَا تَتْرُكُنِي لَيْلًا وَلَا نَهَارًا ، قَالَ : فَخَشِيتُ أَنْ يَدْعُوَ عَلَيَّ ، فَقُلْتُ : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ ، وَأَنَّكَ رَسُولُ اللهِ ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا عُمَرُ ، اسْتُرْهُ قُلْتُ : لَا ، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَأُعْلِنَنَّهُ كَمَا أَعْلَنْتُ بِالشِّرْكِ .
ترجمہ

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے قبولِ اسلام کا واقعہ کچھ یوں ہے کہ انہوں نے بیان کیا: ”ایک رات میری بہن کو زچگی کا درد «الْمَخَاضُ» ”بچے کی ولادت کی تکلیف“ شروع ہوئی تو میں (اضطراب کے عالم میں) گھر سے نکل پڑا اور ایک کڑکڑاتی سردی کی رات میں بیت اللہ کے پردوں میں چھپ کر بیٹھ گیا۔ اتنے میں نبی کریم ﷺ تشریف لائے اور حطیم (حجر) میں داخل ہوئے، اس وقت آپ ﷺ نے نعلین پہن رکھی تھیں، پھر آپ ﷺ نے جب تک اللہ کو منظور تھا نماز ادا کی اور پھر وہاں سے پلٹے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے آپ ﷺ سے (قرأت میں) ایسی کلام سنی جس کی مثال پہلے کبھی نہ سنی تھی، چنانچہ میں (پردوں سے) نکلا اور آپ ﷺ کے پیچھے چل پڑا، تو آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”یہ کون ہے؟“ میں نے عرض کیا: ”عمر“۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے عمر! کیا تم رات میں اور نہ ہی دن میں میرا پیچھا چھوڑو گے؟“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں آپ ﷺ میرے خلاف بددعا نہ فرما دیں، تو میں نے فوراً عرض کیا: «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ ، وَأَنَّكَ رَسُولُ اللهِ» ”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں اور بے شک آپ اللہ کے رسول ہیں“۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اے عمر! اسے (فی الحال) پوشیدہ رکھو“۔ میں نے عرض کیا: ”ہرگز نہیں، اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے، میں اس کا ضرور اعلانیہ اظہار کروں گا جس طرح میں نے شرک کا برملا اظہار کیا تھا“۔
[مسند أبي يعلى: 4229، اس کی سند میں عبداللہ بن المؤمل اپنے حافظے کی بنا پر ضعیف ہے]۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب السيرة والمغازي / حدیث: 4229
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًا
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف جدًا. »
«أخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 6582»