کتب حدیث ›
المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب
› باب: سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا بیان۔
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا قَطَنُ بْنُ نُسَيْرٍ ، ثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : آخَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَصْحَابِهِ ; بَيْنَ أَبِي الدَّرْدَاءِ وَسَلْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، وَبَيْنَ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ وَالصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا .
ترجمہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: ”رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ کرام کے درمیان بھائی چارہ قائم فرمایا؛ چنانچہ آپ ﷺ نے سیدنا ابودرداء اور سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہما کے مابین، اور سیدنا عوف بن مالک اور سیدنا صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہما کے مابین رشتہ مواخات قائم فرمایا۔“
اس حدیث کی سند حسن ہے، اسے امام ابویعلیٰ الموصلی نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے۔
اس حدیث کی سند حسن ہے، اسے امام ابویعلیٰ الموصلی نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے۔
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، ثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ أَشْيَاخِهِ قَالُوا : دَخَلَ سَعْدٌ عَلَى سَلْمَانَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - يَعُودُهُ ، فَبَكَى سَلْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَقَالَ لَهُ سَعْدٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : مَا يُبْكِيكَ يَا عَبْدَ اللهِ ؟ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَنْكَ رَاضٍ ، وَتَرِدُ عَلَيْهِ الْحَوْضَ ، وَتَلْقَى أَصْحَابَكَ .
ترجمہ
ابوسفیان اپنے اساتذہ سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ، سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے ان کے ہاں تشریف لائے تو سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ (شدتِ جذبات سے) رو پڑے۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے ان سے دریافت کیا: ”اے اللہ کے بندے! آپ کو کس چیز نے رلا دیا؟ حالانکہ رسول اللہ ﷺ اس حال میں دنیا سے رخصت ہوئے کہ وہ آپ سے مکمل طور پر راضی تھے، اور آپ حوضِ کوثر پر آپ ﷺ کے پاس پہنچیں گے اور اپنے (پہلے سے وفات یافتہ) ساتھیوں سے جا ملیں گے۔“
اس روایت کو امام احمد بن منیع نے نقل کیا ہے، اس کے راوی ثقہ ہیں البتہ ابوسفیان کے مشائخ کے مبہم ہونے کی وجہ سے سند میں انقطاع ہے، تاہم اس واقعے کے شواہد سنن ابن ماجہ وغیرہ میں موجود ہیں۔
اس روایت کو امام احمد بن منیع نے نقل کیا ہے، اس کے راوی ثقہ ہیں البتہ ابوسفیان کے مشائخ کے مبہم ہونے کی وجہ سے سند میں انقطاع ہے، تاہم اس واقعے کے شواہد سنن ابن ماجہ وغیرہ میں موجود ہیں۔