❮
❯
حدیث نمبر: 4014
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، ثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ أَشْيَاخِهِ قَالُوا : دَخَلَ سَعْدٌ عَلَى سَلْمَانَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - يَعُودُهُ ، فَبَكَى سَلْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَقَالَ لَهُ سَعْدٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : مَا يُبْكِيكَ يَا عَبْدَ اللهِ ؟ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَنْكَ رَاضٍ ، وَتَرِدُ عَلَيْهِ الْحَوْضَ ، وَتَلْقَى أَصْحَابَكَ .
ترجمہ

ابوسفیان اپنے اساتذہ سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ، سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے ان کے ہاں تشریف لائے تو سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ (شدتِ جذبات سے) رو پڑے۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے ان سے دریافت کیا: ”اے اللہ کے بندے! آپ کو کس چیز نے رلا دیا؟ حالانکہ رسول اللہ ﷺ اس حال میں دنیا سے رخصت ہوئے کہ وہ آپ سے مکمل طور پر راضی تھے، اور آپ حوضِ کوثر پر آپ ﷺ کے پاس پہنچیں گے اور اپنے (پہلے سے وفات یافتہ) ساتھیوں سے جا ملیں گے۔“
اس روایت کو امام احمد بن منیع نے نقل کیا ہے، اس کے راوی ثقہ ہیں البتہ ابوسفیان کے مشائخ کے مبہم ہونے کی وجہ سے سند میں انقطاع ہے، تاہم اس واقعے کے شواہد سنن ابن ماجہ وغیرہ میں موجود ہیں۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب المناقب / حدیث: 4014
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :—. »
«أخرجه المستدرك للحاكم برقم: 7986، وأخرجه مصنف ابن أبي شيبة برقم: 35453، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 6160»