❮
❯
قَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى : سَتُدْعَوْنَ إِلَى قَوْمٍ أُولِي بَأْسٍ شَدِيدٍ تُقَاتِلُونَهُمْ أَوْ يُسْلِمُونَ فَإِنْ تُطِيعُوا يُؤْتِكُمُ اللهُ أَجْرًا حَسَنًا وَإِنْ تَتَوَلَّوْا كَمَا تَوَلَّيْتُمْ مِنْ قَبْلُ يُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا أَلِيمًا قَالَ : فَارِسُ وَالرُّومُ .
ترجمہ
امام حسن بصری رحمہ اللہ سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان: ﴿سَتُدْعَوْنَ إِلَى قَوْمٍ أُولِي بَأْسٍ شَدِيدٍ تُقَاتِلُونَهُمْ أَوْ يُسْلِمُونَ فَإِنْ تُطِيعُوا يُؤْتِكُمُ اللهُ أَجْرًا حَسَنًا وَإِنْ تَتَوَلَّوْا كَمَا تَوَلَّيْتُمْ مِنْ قَبْلُ يُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا أَلِيمًا﴾ [سورة الفتح: 16] یعنی ”تمہیں عنقریب ایک ایسی قوم کی طرف (جنگ کے لیے) بلایا جائے گا جو سخت جنگجو اور صاحبِ قوت ہے، تم ان سے قتال کرو گے یا وہ اسلام قبول کر لیں گے، پس اگر تم نے (اس پکار پر) اطاعت کی تو اللہ تمہیں بہترین اجر عطا فرمائے گا اور اگر تم نے روگردانی کی جیسا کہ تم اس سے پہلے روگردانی کر چکے ہو تو وہ تمہیں دردناک عذاب میں مبتلا کرے گا“ کے متعلق مروی ہے، انہوں نے اس قوم کی شناخت کے بارے میں فرمایا: ”اس سے مراد اہل فارس اور رومی ہیں۔“
امام مسدد نے ہشیم سے، انہوں نے منصور بن زاذان سے اور انہوں نے امام حسن بصری سے اس اثر کی تخریج کی ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب التفسير / حدیث: 3718
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ ، ثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ ، عَنْ أَبِي خَلَفٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَوْفٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا جُمُعَةَ جُنَيْدَ بْنَ سَبُعٍ يَقُولُ : قَاتَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَّلَ النَّهَارِ كَافِرًا ، وَقَاتَلْتُ مَعَهُ آخِرَ النَّهَارِ مُسْلِمًا ، وَكُنَّا ثَلَاثَةَ رِجَالٍ وَسَبْعَ نِسْوَةٍ ، وَفِينَا نَزَلَتْ : وَلَوْلا رِجَالٌ مُؤْمِنُونَ وَنِسَاءٌ مُؤْمِنَاتٌ الْآيَةَ .
أَبُو خَلَفٍ اسْمُهُ حُجْرٌ .
ترجمہ
سیدنا ابو جمعہ جنید بن سبع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا: ”میں نے دن کے ابتدائی حصے میں کفر کی حالت میں نبی کریم ﷺ کے خلاف جنگ لڑی، اور پھر اسی دن کے آخری حصے میں مسلمان ہو کر آپ ﷺ کے شانہ بشانہ (دشمنوں سے) قتال کیا؛ اس وقت ہم کل تین مرد اور سات خواتین تھے اور ہمارے ہی حق میں یہ آیت کریمہ نازل ہوئی: ﴿وَلَوْلَا رِجَالٌ مُّؤْمِنُونَ وَنِسَاءٌ مُّؤْمِنَاتٌ﴾ [سورة الفتح: 25]۔“
ابو خلف کا نام حجر ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب التفسير / حدیث: 3719
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف »
«أخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 3543، وأخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 11346، 14093، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 5822، 6919»