المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سورة الْفَتْحِ باب: سورہ الفتح۔
حدیث نمبر: 3719
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ ، ثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ ، عَنْ أَبِي خَلَفٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَوْفٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا جُمُعَةَ جُنَيْدَ بْنَ سَبُعٍ يَقُولُ : قَاتَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَّلَ النَّهَارِ كَافِرًا ، وَقَاتَلْتُ مَعَهُ آخِرَ النَّهَارِ مُسْلِمًا ، وَكُنَّا ثَلَاثَةَ رِجَالٍ وَسَبْعَ نِسْوَةٍ ، وَفِينَا نَزَلَتْ : وَلَوْلا رِجَالٌ مُؤْمِنُونَ وَنِسَاءٌ مُؤْمِنَاتٌ الْآيَةَ .
أَبُو خَلَفٍ اسْمُهُ حُجْرٌ .ترجمہ
سیدنا ابو جمعہ جنید بن سبع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا: ”میں نے دن کے ابتدائی حصے میں کفر کی حالت میں نبی کریم ﷺ کے خلاف جنگ لڑی، اور پھر اسی دن کے آخری حصے میں مسلمان ہو کر آپ ﷺ کے شانہ بشانہ (دشمنوں سے) قتال کیا؛ اس وقت ہم کل تین مرد اور سات خواتین تھے اور ہمارے ہی حق میں یہ آیت کریمہ نازل ہوئی: ﴿وَلَوْلَا رِجَالٌ مُّؤْمِنُونَ وَنِسَاءٌ مُّؤْمِنَاتٌ﴾ [سورة الفتح: 25]۔“
ابو خلف کا نام حجر ہے۔