کتب حدیث › المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب › باب: حضرت داؤد علیہ السلام کا بیان۔
❮
❯
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ : كَانَتْ لِلْعَبَّاسِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ دَارٌ قَرِيبَةٌ مِنَ الْمَسْجِدِ ، فَسَأَلَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ : أَعْطِنِيهَا - أَوْ بِعْنِيهَا - لِأُدْخِلَهَا الْمَسْجِدَ ، فَأَبَى ، وَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : فَاجْعَلْ بَيْنِي وَبَيْنَكَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَعَلَ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَقَضَى عَلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَقَالَ عُمَرُ رِضْوَانُ اللهِ عَلَيْهِ : إِنَّكَ لَمِنْ أَجْرَأِ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : أَوْ مِنْ أَنْصَحِهِمْ لَكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، ثُمَّ قَالَ : " لَوْ مَا عَلِمْتَ أَنَّ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَامُ أُمِرَ بِبِنَاءِ بَيْتِ الْمَقْدِسِ فَأَدْخَلَ بُيُوتًا بِغَيْرِ إِذْنِ أَهْلِهَا ، فَلَمَّا بَلَغَ الْبِنَاءُ حُجَزَ الرِّجَالِ مُنِعَ بِنَاءَهُ ، فَقَالَ : أَيْ رَبِّ ، فَفِي عَقِبِي مِنْ بَعْدِي .
3458 \ 2 - أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنَا مَعْمَرٌ ، أَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، بِهَذَا الْحَدِيثِ نَحْوَهُ ، وَقَالَ فِيهِ : فَقَالَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : لَمَّا أَرَادَ ... الْحَدِيثَ .
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کا ایک گھر مسجدِ نبوی کے بالکل قریب تھا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے (توسیعِ مسجد کے لیے) مطالبہ کرتے ہوئے فرمایا: ”یہ مکان مجھے (عطیے کے طور پر) دے دیں یا اسے میرے ہاتھ فروخت کر دیں تاکہ میں اسے مسجد میں شامل کر سکوں،“ انہوں نے انکار کر دیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تو پھر میرے اور اپنے درمیان رسول اللہ ﷺ کے صحابہ میں سے کسی کو (بطورِ ثالث) مقرر کر لیں،“ چنانچہ انہوں نے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو منصف مانا، انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے خلاف (سیدنا عباس کے حق میں) فیصلہ سنا دیا، اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یقیناً آپ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ میں سب سے زیادہ جرات مند ہیں،“ سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: ”اے امیر المومنین! یا پھر میں آپ کے حق میں سب سے زیادہ مخلص اور خیر خواہ ہوں،“ پھر انہوں نے (اپنے فیصلے کی تائید میں) کہا: ”کاش آپ کو معلوم ہوتا کہ جب سیدنا داؤد علیہ السلام کو بیت المقدس کی تعمیر کا حکم دیا گیا تو انہوں نے مالکان کی اجازت کے بغیر کچھ گھر اس میں شامل کر لیے، پھر جب تعمیر مردوں کے کمر کے بندھن تک پہنچی تو انہیں مزید تعمیر سے روک دیا گیا، اس پر انہوں نے عرض کی: «أَيْ رَبِّ ، فَفِي عَقِبِي مِنْ بَعْدِي» ”اے میرے رب! پھر (اس کی تکمیل کی سعادت) میرے بعد میری نسل میں مقدر فرما دے۔“
امام عبدالرزاق نے معمر اور زید بن اسلم کے واسطے سے اسی حدیث کی مانند روایت بیان کی ہے اور اس میں یہ الفاظ ہیں کہ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جب انہوں نے (سیدنا داؤد علیہ السلام نے) ارادہ کیا...“ (مکمل حدیث بیان کی)۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب أحاديث الأنبياء عليهم الصلاة والسلام / حدیث: 3458
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف، مرسل
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف لضعف علي بن زيد بن جدعان. 3458/2 : هذا مرسل رجاله ثقات. »
«أخرجه السنن الكبرى للبيهقي برقم: 12057، وأخرجه المطالب العالية لابن حجر برقم: 3458 / 2»
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، حَدَّثَنِي الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي عَطَّافٍ قَالَ : " كَانَ دَاوُدُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ إِذَا قَرَّبَ الْإِنَاءَ مِنْ فِيهِ لِيَشْرَبَ فَذَكَرَ خَطِيئَتَهُ بَكَى حَتَّى يَفِيضَ الْإِنَاءُ مِنْ دُمُوعِهِ " .
ترجمہ
ابو عطاف رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا: ”سیدنا داؤد علیہ الصلاۃ والسلام کا یہ حال تھا کہ جب وہ پانی پینے کی خاطر برتن کو اپنے دہنِ مبارک کے قریب لاتے اور انہیں اپنی لغزش یاد آ جاتی تو وہ اس قدر رقت آمیز گریہ فرماتے کہ ان کے آنسوؤں کی فراوانی سے وہ برتن لبریز ہو کر چھلکنے لگتا تھا۔“
اس اثر کو امام مسدد بن مسرہد نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند کے تمام راوی ثقہ ہیں البتہ ابو عطاف کے تابعی ہونے کی بنا پر یہ روایت مرسل ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب أحاديث الأنبياء عليهم الصلاة والسلام / حدیث: 3459
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف، مقطوع
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :أثر مقطوع ضعيف الإِسناد لجهالة قائله. »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»