کتب حدیث ›
المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب
› باب: دلوں کو راحت و نشاط فراہم کرنے کا بیان تاکہ وہ (حقائق و معارف کو) اچھی طرح سمجھ سکیں اور محفوظ رکھ سکیں۔
قَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُدَيْرٍ ، عَنْ قَسَامَةَ بْنِ زُهَيْرٍ قَالَ : " رَوِّحُوا الْقُلُوبَ تَعِي الذِّكْرَ " .
ترجمہ
قسامہ بن زہیر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”اپنے دلوں کو (راحت و سکون پہنچا کر) تازگی اور فرحت بخشا کرو تاکہ وہ ذکر و نصیحت کو کماحقہ سمجھ سکیں اور اسے یاد رکھ سکیں۔“
[تخریج: اسے ابن المبارک نے الزہد (1105) میں روایت کیا ہے اور اس کی سند صحیح ہے۔]
[تخریج: اسے ابن المبارک نے الزہد (1105) میں روایت کیا ہے اور اس کی سند صحیح ہے۔]
وَعَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : " حَادِثُوا هَذِهِ الْقُلُوبَ ; فَإِنَّهَا سَرِيعَةُ الدُّثُورِ " .
ترجمہ
سیدنا حسن بصری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”اپنے ان دلوں کو (وعظ و نصیحت اور ذکرِ الٰہی کے ذریعے) جِلا بخشتے اور انہیں تروتازہ رکھا کرو کیونکہ یہ بہت جلد زنگ آلود ہو جاتے اور ان پر غفلت کی گرد جم جاتی ہے۔“
[أخرجه ابن المبارك في الزهد: 147، وهناد بن السري في الزهد: 588]
[أخرجه ابن المبارك في الزهد: 147، وهناد بن السري في الزهد: 588]
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عُمَرَ بْنِ خَالِدٍ أَبُو أَيُّوبَ الرَّقِّيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ الْكَلْبِيِّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ : قُرِئَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُرْآنٌ وَأُنْشِدَ شِعْرٌ ، فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، أَقُرْآنٌ وَشِعْرٌ فِي مَجْلِسٍ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَعَمْ " .
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کی مجلسِ اقدس میں قرآنِ مجید کی تلاوت کی گئی اور کچھ اشعار بھی (ترنم کے ساتھ) سنائے گئے، تو (تعجب سے) عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا ایک ہی مجلس میں قرآن اور شعر دونوں یکجا ہو سکتے ہیں؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”ہاں“۔
امام ابو یعلیٰ نے اسے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں محمد بن سائب الکلبی راوی متروک ہے، تاہم نبی کریم ﷺ کا مجلس میں اشعار سننا دیگر صحیح احادیث سے ثابت ہے۔
امام ابو یعلیٰ نے اسے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں محمد بن سائب الکلبی راوی متروک ہے، تاہم نبی کریم ﷺ کا مجلس میں اشعار سننا دیگر صحیح احادیث سے ثابت ہے۔