المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب العلم— علم کے فضائل اور آداب کا بیان۔
بَابُ ترويح القلوب لتعي باب: دلوں کو راحت و نشاط فراہم کرنے کا بیان تاکہ وہ (حقائق و معارف کو) اچھی طرح سمجھ سکیں اور محفوظ رکھ سکیں۔
حدیث نمبر: 3104
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عُمَرَ بْنِ خَالِدٍ أَبُو أَيُّوبَ الرَّقِّيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ الْكَلْبِيِّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ : قُرِئَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُرْآنٌ وَأُنْشِدَ شِعْرٌ ، فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، أَقُرْآنٌ وَشِعْرٌ فِي مَجْلِسٍ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَعَمْ " .ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کی مجلسِ اقدس میں قرآنِ مجید کی تلاوت کی گئی اور کچھ اشعار بھی (ترنم کے ساتھ) سنائے گئے، تو (تعجب سے) عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا ایک ہی مجلس میں قرآن اور شعر دونوں یکجا ہو سکتے ہیں؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”ہاں“۔
امام ابو یعلیٰ نے اسے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں محمد بن سائب الکلبی راوی متروک ہے، تاہم نبی کریم ﷺ کا مجلس میں اشعار سننا دیگر صحیح احادیث سے ثابت ہے۔