المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب العلم— علم کے فضائل اور آداب کا بیان۔
بَابُ التَّرْهِيبِ مِنْ الكذب باب: جھوٹ سے ڈرانے اور اس کی وعید کا بیان۔
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى ، وَأَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمَوْصِلِيُّ قَالَا : حَدَّثَنَا سَيْفُ بْنُ هَارُونَ الْبُرْجُمِيُّ ، عَنْ عِصْمَةَ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ : حَدَّثَنِي الْفَزَعُ قَالَ : حَدَّثَنِي الْمُنَقَّعُ قَالَ : قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصَدَقَةِ إِبِلِنَا فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ هَذِهِ صَدَقَةُ إِبِلِنَا قَالَ : فَأَمَرَ بِهَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُسِمَتْ قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ فِيهَا مَا بَيْنَ هَدِيَّةٍ لَكَ وَصَدَقَةٍ ، قَالَ : فَعَزَلْتُ الْهَدِيَّةَ عَنِ الصَّدَقَةِ فَمَكَثْتُ أَيَّامًا وَخَاضَ النَّاسُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَاعِثٌ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى رَقِيقِ مِصْرَ فَمُصَدِّقُهُمْ ، قَالَ : قُلْتُ : إِنَّ لَنَا لَغِنًى ، وَمَا عِنْدَ أَهْلِي مِنْ مَالٍ أَفَلَا أُصَدِّقُهُمْ قَبْلَ أَنْ يَقْدَمَ عَلَيَّ ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذْ هُوَ عَلَى نَاقَةٍ وَمَعَهُ أَسْوَدُ قَدْ حَاذَى رَأْسَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا رَأَيْتُ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ أَطْوَلَ مِنْهُ ، فَلَمَّا دَنَوْتُ مِنْهُ هَوَى إِلَيَّ ، قَالَ : فَكَفَّهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ النَّاسَ خَاضُوا أَنَّكَ بَاعِثٌ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى رَقِيقَ مِصْرَ فَمُصَدِّقُهُمْ .
قَالَ : فَرَفَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ حَتَّى رَأَيْنَا بَيَاضَ إِبْطَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : اللَّهُمَّ إِنِّي لَا أُحِلُّ لَهُمْ أَنْ يَكْذِبُوا عَلَيِّ .
قَالَ الْمُنَقَّعُ : فَمَا حَدَّثْتُ حَدِيثًا عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا حَدِيثًا نَطَقَ بِهِ كِتَابٌ أَوْ أَخْبَرَتْ بِهِ سُنَّةٌ ، يُكْذَبُ عَلَيْهِ فِي حَيَاتِهِ ، فَكَيْفَ بَعْدَ مَوْتِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ .سیدنا منقع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں اپنے اونٹوں کا صدقہ (زکوۃ) لے کر حاضر ہوا اور عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! یہ ہمارے اونٹوں کا صدقہ ہے۔“ آپ ﷺ نے اسے وصول کرنے کا حکم دیا اور وہ تقسیم کر دیا گیا۔ میں نے عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! ان اونٹوں میں کچھ آپ کے لیے ہدیہ ہے اور کچھ زکوۃ ہے،“ چنانچہ میں نے ہدیے کو زکوۃ سے الگ کر دیا۔ میں وہاں چند دن رکا رہا اور لوگوں میں یہ بات پھیل گئی کہ رسول اللہ ﷺ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو 'رقیقِ مصر' کے لوگوں کی طرف صدقہ وصول کرنے کے لیے بھیجنے والے ہیں۔ میں نے (اپنے دل میں) کہا کہ ہمارے پاس تو مال کی فراوانی ہے لیکن میرے گھر والوں کے پاس (نقد) مال نہیں ہے، تو کیا میں خالد بن ولید کے آنے سے پہلے ہی صدقہ ادا نہ کر دوں؟ چنانچہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ ﷺ ایک اونٹنی پر سوار تھے اور آپ کے ساتھ ایک سیاہ فام شخص تھا جس کا قد اتنا لمبا تھا کہ اس کا سر رسول اللہ ﷺ کے سر کے برابر تھا، میں نے اس سے زیادہ لمبا قد والا کوئی انسان نہیں دیکھا تھا۔ جب میں آپ ﷺ کے قریب ہوا تو وہ (سیاہ فام شخص) میری طرف لپکا، مگر نبی کریم ﷺ نے اسے روک دیا۔ میں نے عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! لوگوں میں یہ تذکرہ ہو رہا ہے کہ آپ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو 'رقیقِ مصر' کے علاقے میں صدقات کی وصولی کے لیے بھیجنے والے ہیں۔“
اس پر رسول اللہ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ (دعا کے لیے) اتنے بلند کیے کہ ہمیں آپ کی بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگی، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: «اللَّهُمَّ إِنِّي لَا أُحِلُّ لَهُمْ أَنْ يَكْذِبُوا عَلَيِّ» ”اے اللہ! میں ان کے لیے یہ بات ہرگز جائز قرار نہیں دیتا کہ وہ میری طرف جھوٹی بات منسوب کریں۔“ سیدنا منقع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے اس کے بعد رسول اللہ ﷺ سے منسوب کوئی ایسی بات بیان نہیں کی مگر وہی جس کے متعلق اللہ کی کتاب نے کلام کیا ہو یا سنتِ رسول نے اس کی خبر دی ہو، (وہ کہتے تھے کہ) جب آپ ﷺ کی حیاتِ مبارکہ میں آپ پر جھوٹ باندھا گیا تو آپ ﷺ کی وفات کے بعد کا کیا حال ہو گا؟