کتب حدیث ›
المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب
› باب: جھوٹ بولنے اور (کسی دوسرے کو غلط بیانی کی) تلقین کرنے سے ڈرانے اور زجر و توبیخ کا بیان۔
قَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، حَدَّثَنَا مَيْسَرَةُ ، عَنْ أَبِي عَائِشَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ ، قَالَا : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنِ اسْتَنْبَطَ حَدِيثًا بَاطِلًا ، فَهُوَ كَمَنْ حَدَّثَ بِهِ ، قِيلَ : وَكَيْفَ يَسْتَنْبِطُ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هُوَ الرَّجُلُ يَلْقَى الرَّجُلَ ، فَيَقُولُ : كَانَ ذَيْتَ وَذَيْتَ ، فَيَفْتَتِحُهُ ، فَلَا يَكُونَنَّ أَحَدُكُمْ مِفْتَاحًا لِلشَّرِّ وَالْبَاطِلِ .
( 119 ) حَدِيثُ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : مَنْ قَالَ عَلَيَّ شَيْئًا لَمْ أَقُلْ تَقَدَّمَ فِي الذَّبَائِحِ .
( 119 ) حَدِيثُ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : مَنْ قَالَ عَلَيَّ شَيْئًا لَمْ أَقُلْ تَقَدَّمَ فِي الذَّبَائِحِ .
ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص نے کوئی باطل اور من گھڑت بات وضع کی، تو وہ (گناہ میں) اس شخص کی مانند ہے جس نے وہ بات آگے بیان کی (یعنی جھوٹ گھڑنے والا اور اسے مشہور کرنے والا دونوں برابر کے گناہ گار ہیں)۔“ دریافت کیا گیا: یا رسول اللہ! وہ بات کیسے گھڑتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ وہ آدمی ہے جو دوسرے آدمی سے ملتا ہے اور (من گھڑت طور پر) کہتا ہے کہ ایسا اور ایسا ہوا ہے، یوں وہ اس کا آغاز کر دیتا ہے؛ لہٰذا تم میں سے کوئی بھی شخص شر اور باطل کے لیے کلید (یعنی ذریعہ یا راستہ کھولنے والا) ہرگز نہ بنے۔“
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث: ”جس نے میری طرف منسوب کر کے ایسی بات کہی جو میں نے نہیں کہی“ اس کا بیان کتاب الذبائح میں گزر چکا ہے۔
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث: ”جس نے میری طرف منسوب کر کے ایسی بات کہی جو میں نے نہیں کہی“ اس کا بیان کتاب الذبائح میں گزر چکا ہے۔
وَقَالَ : أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ : لَقَّنْتُ سَلَمَةَ بْنَ عَلْقَمَةَ حَدِيثًا ، فَحَدَّثَنِي بِهِ ، ثُمَّ رَجَعَ ، ثُمَّ قَالَ : إِذَا أَرَدْتَ أَنْ تَكْذِبَ صَاحِبَكَ ، فَلَقِّنْهُ .
ترجمہ
حماد بن زید رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے سلمہ بن علقمہ رحمہ اللہ کو (امتحان کے طور پر) ایک حدیث کے الفاظ کی تلقین کی (یعنی ان کے سامنے خود سے دہرائے) تو انہوں نے وہی حدیث مجھے سنا دی، پھر وہ (اپنی اس لغزش پر متنبہ ہو کر) واپس پلٹے اور نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: ”اگر تم اپنے ساتھی کو جھوٹا ثابت کرنا چاہتے ہو (یعنی اسے ایسی بات کہنے پر اکساؤ جو اس کے حافظے میں مستحکم نہیں) تو اسے تلقین کیا کرو (یعنی اسے اپنی طرف سے الفاظ سجھایا کرو)۔“
اسے امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے۔
اسے امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے۔