❮
❯
حدیث نمبر: 3052
قَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ هُوَ ابْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو هِلَالٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ لِي أَبُو مُوسَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : جَهِّزْنِي ، فَإِنِّي خَارِجٌ يَوْمَ كَذَا وَكَذَا ، قَالَ : فَجَاءَهُ ذَلِكَ الْيَوْمَ وَقَدْ بَقِيَ بَعْضُ جِهَازِهِ ، فَقَالَ : أَفَرَغْتَ ؟ قُلْتُ : بَقِيَ شَيْءٌ يَسِيرٌ ، قَالَ : فَإِنِّي خَارِجٌ ، قُلْتُ : أَصْلَحَ اللهُ الْأَمِيرَ ، لَوْ أَقَمْتَ حَتَّى يُفْرَغَ مِنْ بَقِيَّةِ جِهَازِكَ ، فَقَالَ : لَا ، إِنِّي أَكْرَهُ أَنْ أَكْذِبَ أَهْلِي ، فَيَكْذِبُونِي ، وَأَنْ أُخْلِفَهُمْ ، فَيُخْلِفُونِي ، وَأَنْ أَخُونَهُمْ ، فَيَخُونُونِي .
ترجمہ

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مجھ سے سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میرے سفر کی تیاریاں کر دو، کیونکہ میں فلاں فلاں دن روانہ ہونے والا ہوں۔“ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ پھر جب وہ مقررہ دن آ گیا تو ان کے سفر کے سامان میں سے ابھی کچھ تیاری باقی تھی، انہوں نے دریافت کیا: ”کیا تم کام مکمل کر چکے ہو؟“ میں نے عرض کیا: ”بس معمولی سا کام باقی رہ گیا ہے۔“ انہوں نے فرمایا: ”میں تو (اپنے طے شدہ وقت پر) نکل رہا ہوں۔“ میں نے عرض کیا: ”اللہ تعالیٰ امیر کی اصلاح فرمائے! اگر آپ اس وقت تک قیام فرما لیتے جب تک آپ کے بقیہ سامان کی تیاری سے فراغت حاصل ہو جاتی (تو بہتر تھا)۔“ اس پر انہوں نے فرمایا: ”ہرگز نہیں، بے شک میں اس بات کو ناپسند کرتا ہوں کہ میں اپنے گھر والوں سے جھوٹ بولوں تو وہ (ردِ عمل میں) مجھ سے جھوٹ بولنے لگیں، اور یہ کہ میں ان سے وعدہ خلافی کروں تو وہ مجھ سے وعدہ خلافی کرنے لگیں، اور یہ کہ میں ان سے خیانت کروں تو وہ مجھ سے خیانت کرنے لگیں۔“
اسے امام حارث بن ابی اسامہ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب العلم / حدیث: 3052
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده صحيح. »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»