المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب العلم— علم کے فضائل اور آداب کا بیان۔
بَابُ التَّرْهِيبِ مِنْ الكذب والتلقين باب: جھوٹ بولنے اور (کسی دوسرے کو غلط بیانی کی) تلقین کرنے سے ڈرانے اور زجر و توبیخ کا بیان۔
حدیث نمبر: 3054
وَقَالَ : أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ : لَقَّنْتُ سَلَمَةَ بْنَ عَلْقَمَةَ حَدِيثًا ، فَحَدَّثَنِي بِهِ ، ثُمَّ رَجَعَ ، ثُمَّ قَالَ : إِذَا أَرَدْتَ أَنْ تَكْذِبَ صَاحِبَكَ ، فَلَقِّنْهُ .ترجمہ
حماد بن زید رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے سلمہ بن علقمہ رحمہ اللہ کو (امتحان کے طور پر) ایک حدیث کے الفاظ کی تلقین کی (یعنی ان کے سامنے خود سے دہرائے) تو انہوں نے وہی حدیث مجھے سنا دی، پھر وہ (اپنی اس لغزش پر متنبہ ہو کر) واپس پلٹے اور نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: ”اگر تم اپنے ساتھی کو جھوٹا ثابت کرنا چاہتے ہو (یعنی اسے ایسی بات کہنے پر اکساؤ جو اس کے حافظے میں مستحکم نہیں) تو اسے تلقین کیا کرو (یعنی اسے اپنی طرف سے الفاظ سجھایا کرو)۔“
اسے امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے۔