کتب حدیث › المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب › باب: بردباری، وقار اور نرم خوئی کا بیان۔
❮
❯
قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ .
2814 \ 2 - وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى .
2814 \ 3 - وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ سِنَانِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : التَّأَنِّي مِنَ اللهِ تَعَالَى ، وَالْعَجَلَةُ مِنَ الشَّيْطَانِ ، مَا شَيْءٌ أَكْثَرَ مَعَاذِيرَ مِنَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ ، وَمَا مِنْ شَيْءٍ أَحَبُّ إِلَى اللهِ تَعَالَى مِنَ الْحَمْدِ .
2814 \ 4 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ بِهَذَا .
ترجمہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”«التَّأَنِّي مِنَ اللهِ تَعَالَى» ”غور و فکر اور وقار کے ساتھ کام کرنا اللہ تعالیٰ کی طرف سے (پسندیدہ صفت) ہے“، «وَالْعَجَلَةُ مِنَ الشَّيْطَانِ» ”اور جلد بازی شیطان کی جانب سے ہے“، «مَا شَيْءٌ أَكْثَرَ مَعَاذِيرَ مِنَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ» ”اور اللہ عزوجل سے بڑھ کر بندوں کے عذر قبول کرنے والا کوئی نہیں“، «وَمَا مِنْ شَيْءٍ أَحَبُّ إِلَى اللهِ تَعَالَى مِنَ الْحَمْدِ» ”اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک اپنی حمد و ستائش سے بڑھ کر کوئی چیز زیادہ محبوب نہیں ہے“۔“
امام ابوبکر بن ابی شیبہ، احمد بن منیع، حارث اور ابویعلیٰ نے اسے یونس بن محمد، حسن بن موسیٰ اور ابوالنضر کے واسطے سے لیث بن سعد، یزید بن ابی حبیب اور سنان بن سعد کے طریق سے روایت کیا ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الأدب / حدیث: 2814
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده صحيح. »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَلِيٍّ ، قَالَ : دَخَلْتُ مَعَ أَبِي عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَانْتَجَاهُ دُونِي ، فَقُلْتُ : يَا أَبَهْ ، أَيُّ شَيْءٍ قَالَ لَكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِي : إِذَا هَمَمْتَ بِأَمْرٍ ، فَعَلَيْكَ بِالتُّؤَدَةِ ، حَتَّى يَأْتِيَكَ اللهُ بِالْمَخْرَجِ مِنْ أَمْرِكَ .
2815 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ وَقَالَ فِي آخِرِهِ : حَتَّى يَأْتِيَكَ اللهُ بِفَرَجٍ مِنْ أَمْرِكَ .
2815 \ 3 - وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ سَعِيدٍ نَحْوَهُ .
ترجمہ
قبیلہ بَلی کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ میں اپنے والد کے ہمراہ نبی کریم ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوا، تو آپ ﷺ نے مجھ سے ہٹ کر میرے والد سے تخلیہ میں بات چیت فرمائی؛ میں نے عرض کیا: اے ابا جان! رسول اللہ ﷺ نے آپ سے کیا ارشاد فرمایا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ آپ ﷺ نے مجھ سے ارشاد فرمایا: ”جب تم کسی کام کا ارادہ کرو تو سنجیدگی، بردباری اور اطمینان کو لازم پکڑو، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ تمہارے لیے تمہارے اس معاملے سے نکلنے کی کوئی راہ اور سبیل پیدا فرما دے۔“
امام ابو یعلیٰ نے اس کی روایت احمد بن ابراہیم الدورقی، ابومعاویہ کے واسطے سے کی ہے اور اس کے آخر میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں: ”یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ تمہارے معاملے میں کشادگی اور فلاح کی صورت پیدا فرما دے۔“
امام حارث نے اس کی روایت عبداللہ بن محمد سے، انہوں نے مبارک بن فضالہ سے اور انہوں نے سعد بن سعید سے اسی کے مانند بیان کی ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الأدب / حدیث: 2815
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده حسن. »
«أخرجه مصنف ابن أبي شيبة برقم: 10، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 5260/1»