المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الطب— طب اور علاج معالجے کا بیان۔
بَابُ النقلة مِنْ البلد الوبية باب: وبائی بستی یا علاقے سے کسی دوسری جگہ منتقل ہونے کا بیان۔
قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ آلِ بَحِيرِ بْنِ رَيْسَانَ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْهُمْ ، أَنَّهُ قَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، إِنَّ أَرْضًا مِنْ أَرْضِنَا يُقَالُ لَهَا : أَبْيَنُ ، هِيَ أَرْضُ مِيرَتِنَا وَرِيفِنَا ، وَهِيَ وَبِيَّةٌ ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " دَعُوهَا ; فَإِنَّ مِنَ الْقَرَفِ التَّلَفَ " .
قُلْتُ : هُوَ عِنْدَ أَبِي دَاوُدَ مِنْ حَدِيثِ فَرْوَةَ بْنِ مُسَيْكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ .آلِ بحیر بن ریسان کے ایک شخص اپنے خاندان کے ہی ایک فرد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! ہماری زمینوں میں سے ایک زمین ہے جسے 'ابین' کہا جاتا ہے، وہ ہمارے غلے اور اناج کی فراہمی کا ذریعہ اور نہایت زرخیز و شاداب علاقہ ہے، مگر وہ جگہ وبائی اثرات کی حامل ہے (یعنی وہاں کثرت سے بیماریاں پھیلتی ہیں)۔“ تو نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم اس جگہ کو چھوڑ دو؛ کیونکہ کسی وبائی یا متعدی بیماری والے مقام سے چمٹے رہنا اور وہاں قیام کرنا ہلاکت و بربادی کا باعث بنتا ہے۔“
میں کہتا ہوں کہ یہ حدیث امام ابو داؤد کے ہاں سیدنا فروہ بن مسیک رضی اللہ عنہ کی روایت سے موجود ہے۔