کتب حدیث ›
المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب
› باب: بچوں اور دوسروں کے لیے عصفر سے رنگے کپڑوں کا بیان۔
قَالَ مُسَدَّدٌ : " حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، وَابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ : كُنَّا نَدْخُلُ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا وَنَحْنُ غِلْمَانٌ ، وَعَلَيْنَا ثِيَابٌ مُعَصْفَرَةٌ " .
ترجمہ
عطا اور ابن ابی ملیکہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: ”ہم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا کرتے تھے، اور اس وقت ہم نوعمر لڑکے تھے، جبکہ ہمارے جسم پر زعفرانی (یعنی عصفر سے رنگے ہوئے) کپڑے ہوتے تھے۔“
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، ثَنَا عُمَارَةُ بْنُ زَاذَانَ ، عَنْ زِيَادٍ النُّمَيْرِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : إِنَّ شَابًّا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : [وَعَلَيْهِ مِلْحَفَةٌ مُعَصْفَرَةٌ ، فَقَالَ الرَّسُولُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ] : لَوْ كَانَ هَذَا تَحْتَ قِدْرِ أَهْلِكَ كَانَ خَيْرًا لَكَ ، فَذَهَبَ الْفَتَى فَغَدَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " مَا صَنَعْتَ بِثَوْبِكَ ؟ قَالَ : صَنَعْتُ مَا أَمَرْتَنِي بِهِ . فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا بِذَلِكَ أَمَرْتُكَ ، فَهَلَّا أَلْقَيْتَهُ عَلَى بَعْضِ نِسَائِكَ .
ترجمہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک نوجوان زعفرانی رنگ کی چادر اوڑھے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر یہ (چادر) تمہارے گھر والوں کی ہانڈی کے نیچے ہوتی (یعنی بطور ایندھن استعمال کی جاتی) تو تمہارے لیے بہتر ہوتا۔“ تو وہ نوجوان (یہ سن کر) چلا گیا، اور اگلے دن صبح نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ ﷺ نے اس سے پوچھا: ”تم نے اپنے (اس) کپڑے کا کیا کیا؟“ اس نے عرض کیا: ”میں نے وہی کیا جس کا آپ نے مجھے حکم دیا تھا۔“ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے تمہیں اس کا حکم نہیں دیا تھا، تم نے اسے اپنی کسی عورت کو کیوں نہیں دے دیا؟“