کتب حدیث ›
المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب
› باب: سرحدوں کی پاسبانی (رباط) کی فضیلت اور دیگر عبادات کے مقابلے میں اس کی برتری و فوقیت کا بیان۔
قَالَ الطَّيَالِسِيُّ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْأَزْرَقِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ عَسْعَسَ بْنِ سَلَامَةَ ، قَالَ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي سَفَرٍ ، فَفَقَدَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِهِ فَأُتِيَ بِهِ ، فَقَالَ : إِنِّي أَرَدْتُ أَنْ أَخْلُوَ بِعِبَادَةِ رَبِّي ، فَأَعْتَزِلَ النَّاسَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَلَا تَفْعَلْ ، وَلَا يَفْعَلْهُ أَحَدٌ مِنْكُمْ - قَالَهَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثًا - فَلَصَبْرُ سَاعَةٍ فِي بَعْضِ مَوَاطِنِ الْمُسْلِمِينَ خَيْرٌ مِنْ عِبَادَةِ أَرْبَعِينَ عَامًا .
1952 \ 2 - وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، ثَنَا شُعْبَةُ قَالَ : سَمِعْتُ الْأَزْرَقَ بْنَ قَيْسٍ يَقُولُ : سَمِعْتُ عَسْعَسَ بْنَ سَلَامَةَ ، يَقُولُ : كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرِهِ ، فَذَكَرَهُ .
1952 \ 2 - وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، ثَنَا شُعْبَةُ قَالَ : سَمِعْتُ الْأَزْرَقَ بْنَ قَيْسٍ يَقُولُ : سَمِعْتُ عَسْعَسَ بْنَ سَلَامَةَ ، يَقُولُ : كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرِهِ ، فَذَكَرَهُ .
ترجمہ
عسعس بن سلامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ ایک سفر میں تشریف فرما تھے کہ آپ ﷺ نے اپنے صحابہ میں سے ایک صاحب کو غیر حاضر پایا، پھر جب انہیں لایا گیا تو انہوں نے عرض کی کہ میں نے اپنے رب کی عبادت کی خاطر تنہائی اختیار کرنے اور لوگوں سے کنارہ کش ہونے کا ارادہ کر لیا تھا، تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم ایسا نہ کرو، اور تم میں سے کوئی بھی ایسا ہرگز نہ کرے“، آپ ﷺ نے یہ بات تین مرتبہ ارشاد فرمائی اور فرمایا: ”یقیناً مسلمانوں کے کسی محاذ یا مجمع میں ایک گھڑی کا صبر کرنا چالیس سال کی (تنہا) عبادت سے بہتر ہے“۔
امام حارث نے اپنی سند میں روح اور شعبہ کے واسطے سے ازرق بن قیس سے روایت کیا کہ انہوں نے عسعس بن سلامہ رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ اپنے ایک سفر میں تھے، پھر انہوں نے اسی طرح مکمل واقعہ بیان کیا۔
امام حارث نے اپنی سند میں روح اور شعبہ کے واسطے سے ازرق بن قیس سے روایت کیا کہ انہوں نے عسعس بن سلامہ رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ اپنے ایک سفر میں تھے، پھر انہوں نے اسی طرح مکمل واقعہ بیان کیا۔
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، ثَنَا بُكَيْرُ بْنُ الْأَخْنَسِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : رِبَاطُ يَوْمٍ فِي سَبِيلِ اللهِ يَعْدِلُ عِبَادَةَ شَهْرٍ أَوْ سَنَةٍ ، صِيَامَهَا وَقِيَامَهَا ، وَمَنْ مَاتَ مُرَابِطًا فِي سَبِيلِ اللهِ تَعَالَى أَعَاذَهُ اللهُ تَعَالَى مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ، وَأَجْرَى لَهُ أَجْرَ رِبَاطِهِ مَا قَامَتِ الدُّنْيَا .
ترجمہ
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اللہ کی راہ میں (سرحدوں کی حفاظت کے لیے) ایک دن کی پہرہ داری، ایک ماہ یا ایک سال کی (نفلی) عبادت یعنی اس کے روزوں اور راتوں کے قیام کے برابر ہے؛ اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی راہ میں پہرے داری کی حالت میں وفات پا جائے، اللہ تعالیٰ اسے قبر کے عذاب سے محفوظ فرما لیتا ہے اور اس کے لیے اس کی اس پہرے داری کا اجر و ثواب جب تک دنیا قائم ہے (تا قیامت) جاری و ساری کر دیتا ہے۔“