المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الجهاد— جہاد کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ الرباط وَفَضْلِهِ عَلَى الْعِبَادَةِ باب: سرحدوں کی پاسبانی (رباط) کی فضیلت اور دیگر عبادات کے مقابلے میں اس کی برتری و فوقیت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1953
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، ثَنَا بُكَيْرُ بْنُ الْأَخْنَسِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : رِبَاطُ يَوْمٍ فِي سَبِيلِ اللهِ يَعْدِلُ عِبَادَةَ شَهْرٍ أَوْ سَنَةٍ ، صِيَامَهَا وَقِيَامَهَا ، وَمَنْ مَاتَ مُرَابِطًا فِي سَبِيلِ اللهِ تَعَالَى أَعَاذَهُ اللهُ تَعَالَى مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ، وَأَجْرَى لَهُ أَجْرَ رِبَاطِهِ مَا قَامَتِ الدُّنْيَا .ترجمہ
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اللہ کی راہ میں (سرحدوں کی حفاظت کے لیے) ایک دن کی پہرہ داری، ایک ماہ یا ایک سال کی (نفلی) عبادت یعنی اس کے روزوں اور راتوں کے قیام کے برابر ہے؛ اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی راہ میں پہرے داری کی حالت میں وفات پا جائے، اللہ تعالیٰ اسے قبر کے عذاب سے محفوظ فرما لیتا ہے اور اس کے لیے اس کی اس پہرے داری کا اجر و ثواب جب تک دنیا قائم ہے (تا قیامت) جاری و ساری کر دیتا ہے۔“