کتب حدیث ›
المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب
› باب: شراب کی بیع کی حرمت کا بیان، اگرچہ وہ (بطورِ ترکہ) یتیموں ہی کی ملکیت کیوں نہ ہو۔
قَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : " إِنَّ رَجُلًا أَهْدَى إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَزَادَةً مِنْ خَمْرٍ ، فَأَمَرَ بِبَيْعِهَا ، فَلَمَّا وَلَّى قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ الَّذِي حَرَّمَ شُرْبَهَا حَرَّمَ بَيْعَهَا ، فَأَمَرَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوِكَائِهَا فَفُتِحَ .
ترجمہ
سیدنا جعفر بن محمد رحمہ اللہ اپنے والد (سیدنا محمد باقر رحمہ اللہ) سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ کی خدمتِ اقدس میں شراب کی ایک مشک بطورِ ہدیہ پیش کی، تو آپ ﷺ نے (بظاہر) اسے فروخت کرنے کا حکم دیا، لیکن جب وہ شخص جانے لگا تو آپ ﷺ نے پکار کر ارشاد فرمایا: ”بے شک جس (اللہ) نے اس کا پینا حرام قرار دیا ہے، اسی نے اس کی بیع (خرید و فروخت) بھی حرام کر دی ہے“، پھر آپ ﷺ نے اس کے بندھن کو کھولنے کا حکم دیا تو اسے کھول کر (بہا) دیا گیا۔
شارحینِ حدیث کے مطابق اس سے یہ شرعی قاعدہ معلوم ہوتا ہے کہ جو چیز بذاتِ خود حرام ہو، اس کی تجارت اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی بھی حرام ہوتی ہے، اور شراب کی حرمت کے بعد اس کا کسی بھی طرح کا لین دین ناجائز ہے۔
شارحینِ حدیث کے مطابق اس سے یہ شرعی قاعدہ معلوم ہوتا ہے کہ جو چیز بذاتِ خود حرام ہو، اس کی تجارت اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی بھی حرام ہوتی ہے، اور شراب کی حرمت کے بعد اس کا کسی بھی طرح کا لین دین ناجائز ہے۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ الْقُمِّيُّ ، عَنْ عِيسَى بْنِ جَارِيَةَ ، قَالَ : " كَانَ رَجُلٌ يَحْمِلُ الْخَمْرَ مِنْ خَيْبَرَ ، فَيَبِيعُهَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ . فَحَمَلَ مِنْهَا بِمَالٍ فَقَدِمَ بِهِ الْمَدِينَةَ ، فَلَقِيَهُ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ، فَقَالَ : يَا فُلَانُ ، إِنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ . فَوَضَعَهَا حَيْثُ انْتَهَى عَلَى تَلٍّ ، وَسَجَّى عَلَيْهَا بِالْأَكْسِيَةِ .
ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، بَلَغَنِي أَنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ ! قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَجَلْ . قَالَ : أَلَا أَرُدُّهَا عَلَى مَنِ ابْتَعْتُهَا مِنْهُ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا يَصْلُحُ رَدُّهَا . قَالَ : أَلَا أُهْدِيهَا لِمَنْ يُكَافِئُ عَلَيْهَا ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا . قَالَ : فِيهَا مَالٌ لِيَتَامَى فِي حَجْرِي ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا أَتَانَا مَالُ الْبَحْرَيْنِ نُعَوِّضُ أَيْتَامَكَ مِنْ مَالِهِمْ .
ثُمَّ نَادَى : يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ ! قَالَ : فَقَالَ الرَّجُلُ : يَا رَسُولَ اللهِ الْأَوْعِيَةُ نَنْتَفِعُ بِهَا ! قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَحَلُّوا أَوْكِيَتَهَا . فَانْصَبَّتْ حَتَّى اسْتَقَرَّتْ فِي بَطْنِ الْوَادِي .
ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، بَلَغَنِي أَنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ ! قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَجَلْ . قَالَ : أَلَا أَرُدُّهَا عَلَى مَنِ ابْتَعْتُهَا مِنْهُ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا يَصْلُحُ رَدُّهَا . قَالَ : أَلَا أُهْدِيهَا لِمَنْ يُكَافِئُ عَلَيْهَا ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا . قَالَ : فِيهَا مَالٌ لِيَتَامَى فِي حَجْرِي ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا أَتَانَا مَالُ الْبَحْرَيْنِ نُعَوِّضُ أَيْتَامَكَ مِنْ مَالِهِمْ .
ثُمَّ نَادَى : يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ ! قَالَ : فَقَالَ الرَّجُلُ : يَا رَسُولَ اللهِ الْأَوْعِيَةُ نَنْتَفِعُ بِهَا ! قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَحَلُّوا أَوْكِيَتَهَا . فَانْصَبَّتْ حَتَّى اسْتَقَرَّتْ فِي بَطْنِ الْوَادِي .
ترجمہ
حضرت عیسیٰ بن جاریہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک شخص خیبر سے شراب لا کر مسلمانوں کے ہاتھ فروخت کیا کرتا تھا، ایک مرتبہ وہ کثیر رقم کا مال لے کر مدینہ منورہ پہنچا تو اسے ایک مسلمان شخص ملے اور بتایا کہ اے فلاں! یقیناً اب شراب حرام کر دی گئی ہے، چنانچہ اس نے وہ شراب وہیں ایک ٹیلے پر رکھ دی جہاں وہ پہنچا تھا اور اسے چادروں سے ڈھانپ دیا
پھر وہ نبی کریم ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوا اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! مجھے معلوم ہوا ہے کہ شراب حرام کر دی گئی ہے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”ہاں۔“ اس نے پوچھا: کیا میں اسے ان لوگوں کو واپس نہ کر دوں جن سے میں نے اسے خریدا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے واپس کرنا اب جائز نہیں ہے۔“ اس نے پھر عرض کی: کیا میں اسے کسی کو ہدیہ کر دوں جو اس کے بدلے مجھے کچھ مال دے دے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”نہیں۔“ اس نے عرض کی: اس میں ان یتیموں کا مال لگا ہوا ہے جو میری آغوشِ تربیت میں ہیں؟ آپ ﷺ نے تسلی دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”جب ہمارے پاس بحرین کا مال آئے گا تو ہم تمہارے یتیموں کو ان کے مال کا نعم البدل عطا کر دیں گے۔“
پھر آپ ﷺ نے پکار کر فرمایا: ”اے اہل مدینہ!“ اس شخص نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا ہم ان برتنوں کو اپنے استعمال میں لا سکتے ہیں؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تو پھر ان کے تسمے کھول دو۔“ چنانچہ وہ شراب بہا دی گئی یہاں تک کہ وہ وادی کے نشیبی حصے میں جا کر جمع ہوگئی۔
پھر وہ نبی کریم ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوا اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! مجھے معلوم ہوا ہے کہ شراب حرام کر دی گئی ہے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”ہاں۔“ اس نے پوچھا: کیا میں اسے ان لوگوں کو واپس نہ کر دوں جن سے میں نے اسے خریدا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے واپس کرنا اب جائز نہیں ہے۔“ اس نے پھر عرض کی: کیا میں اسے کسی کو ہدیہ کر دوں جو اس کے بدلے مجھے کچھ مال دے دے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”نہیں۔“ اس نے عرض کی: اس میں ان یتیموں کا مال لگا ہوا ہے جو میری آغوشِ تربیت میں ہیں؟ آپ ﷺ نے تسلی دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”جب ہمارے پاس بحرین کا مال آئے گا تو ہم تمہارے یتیموں کو ان کے مال کا نعم البدل عطا کر دیں گے۔“
پھر آپ ﷺ نے پکار کر فرمایا: ”اے اہل مدینہ!“ اس شخص نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا ہم ان برتنوں کو اپنے استعمال میں لا سکتے ہیں؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تو پھر ان کے تسمے کھول دو۔“ چنانچہ وہ شراب بہا دی گئی یہاں تک کہ وہ وادی کے نشیبی حصے میں جا کر جمع ہوگئی۔