❮
❯
حدیث نمبر: 1803
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ الْقُمِّيُّ ، عَنْ عِيسَى بْنِ جَارِيَةَ ، قَالَ : " كَانَ رَجُلٌ يَحْمِلُ الْخَمْرَ مِنْ خَيْبَرَ ، فَيَبِيعُهَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ . فَحَمَلَ مِنْهَا بِمَالٍ فَقَدِمَ بِهِ الْمَدِينَةَ ، فَلَقِيَهُ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ، فَقَالَ : يَا فُلَانُ ، إِنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ . فَوَضَعَهَا حَيْثُ انْتَهَى عَلَى تَلٍّ ، وَسَجَّى عَلَيْهَا بِالْأَكْسِيَةِ .
ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، بَلَغَنِي أَنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ ! قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَجَلْ . قَالَ : أَلَا أَرُدُّهَا عَلَى مَنِ ابْتَعْتُهَا مِنْهُ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا يَصْلُحُ رَدُّهَا . قَالَ : أَلَا أُهْدِيهَا لِمَنْ يُكَافِئُ عَلَيْهَا ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا . قَالَ : فِيهَا مَالٌ لِيَتَامَى فِي حَجْرِي ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا أَتَانَا مَالُ الْبَحْرَيْنِ نُعَوِّضُ أَيْتَامَكَ مِنْ مَالِهِمْ .
ثُمَّ نَادَى : يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ ! قَالَ : فَقَالَ الرَّجُلُ : يَا رَسُولَ اللهِ الْأَوْعِيَةُ نَنْتَفِعُ بِهَا ! قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَحَلُّوا أَوْكِيَتَهَا . فَانْصَبَّتْ حَتَّى اسْتَقَرَّتْ فِي بَطْنِ الْوَادِي .
ترجمہ

حضرت عیسیٰ بن جاریہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک شخص خیبر سے شراب لا کر مسلمانوں کے ہاتھ فروخت کیا کرتا تھا، ایک مرتبہ وہ کثیر رقم کا مال لے کر مدینہ منورہ پہنچا تو اسے ایک مسلمان شخص ملے اور بتایا کہ اے فلاں! یقیناً اب شراب حرام کر دی گئی ہے، چنانچہ اس نے وہ شراب وہیں ایک ٹیلے پر رکھ دی جہاں وہ پہنچا تھا اور اسے چادروں سے ڈھانپ دیا
پھر وہ نبی کریم ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوا اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! مجھے معلوم ہوا ہے کہ شراب حرام کر دی گئی ہے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”ہاں۔“ اس نے پوچھا: کیا میں اسے ان لوگوں کو واپس نہ کر دوں جن سے میں نے اسے خریدا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے واپس کرنا اب جائز نہیں ہے۔“ اس نے پھر عرض کی: کیا میں اسے کسی کو ہدیہ کر دوں جو اس کے بدلے مجھے کچھ مال دے دے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”نہیں۔“ اس نے عرض کی: اس میں ان یتیموں کا مال لگا ہوا ہے جو میری آغوشِ تربیت میں ہیں؟ آپ ﷺ نے تسلی دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”جب ہمارے پاس بحرین کا مال آئے گا تو ہم تمہارے یتیموں کو ان کے مال کا نعم البدل عطا کر دیں گے۔“
پھر آپ ﷺ نے پکار کر فرمایا: ”اے اہل مدینہ!“ اس شخص نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا ہم ان برتنوں کو اپنے استعمال میں لا سکتے ہیں؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تو پھر ان کے تسمے کھول دو۔“ چنانچہ وہ شراب بہا دی گئی یہاں تک کہ وہ وادی کے نشیبی حصے میں جا کر جمع ہوگئی۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الحدود / حدیث: 1803
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف، مرسل
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :مرسل، إسناده ضعيف. »
«أخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 3739، وأخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 5809، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 2860، وأخرجه الأموال لابن زنجويه برقم: 428»