کتب حدیث ›
المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب
› باب: طلاق میں استثناء (یعنی ان شاء اللہ کہنے) کے احکام و مسائل کا بیان۔
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، قَالَ : أَتَيْتُ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيَّ فَقُلْتُ : إِنَّ رَجُلًا خَاصَمَنِي - يُقَالُ لَهُ : سَعِيدٌ - ... فَذَكَرَ الْحَدِيثَ .
قَالَ : ثُمَّ قَالَ إِبْرَاهِيمُ : قَدْ أَتَانِي ذَلِكَ مَرَّةً فَزَعَمَ أَنَّهُ قَالَ لِامْرَأَتِهِ : كُلُّ امْرَأَةٍ لَهُ طَالِقٌ ثَلَاثًا غَيْرَكِ . فَقُلْتُ : إِنَّ شُرَيْحًا كَانَ يَقُولُ : إِذَا بَدَأَ بِالطَّلَاقِ وَقَعَ عَلَيْهَا .
فَبَلَغَنِي أَنَّهُ حِينَ خَرَجَ قَالَ : هَلْ هَذَا إِلَّا رَأْيُ الرِّجَالِ ؟ ثُمَّ بَلَغَنِي أَنَّهُ وَرِعَ عَنْهَا فَتَرَكَهَا .
قَالَ جَرِيرٌ : فَلَقِيتُ سَعِيدًا الزُّبَيْدِيَّ فَسَأَلْتُهُ عَنْ هَذَا ، فَقَالَ : أَمَا إِنِّي سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ فَقَالَ : لَا تَطْلُقُ ، ثُمَّ قَالَ الزُّبَيْدِيُّ : " أَمَا إِنِّي لَوْ كُنْتُ يَوْمَئِذٍ عَلَى حَالٍ كَمَا أَنَا عَلَيْهِ الْيَوْمَ مَا طَلَّقْتُهَا ".
قَالَ : ثُمَّ قَالَ إِبْرَاهِيمُ : قَدْ أَتَانِي ذَلِكَ مَرَّةً فَزَعَمَ أَنَّهُ قَالَ لِامْرَأَتِهِ : كُلُّ امْرَأَةٍ لَهُ طَالِقٌ ثَلَاثًا غَيْرَكِ . فَقُلْتُ : إِنَّ شُرَيْحًا كَانَ يَقُولُ : إِذَا بَدَأَ بِالطَّلَاقِ وَقَعَ عَلَيْهَا .
فَبَلَغَنِي أَنَّهُ حِينَ خَرَجَ قَالَ : هَلْ هَذَا إِلَّا رَأْيُ الرِّجَالِ ؟ ثُمَّ بَلَغَنِي أَنَّهُ وَرِعَ عَنْهَا فَتَرَكَهَا .
قَالَ جَرِيرٌ : فَلَقِيتُ سَعِيدًا الزُّبَيْدِيَّ فَسَأَلْتُهُ عَنْ هَذَا ، فَقَالَ : أَمَا إِنِّي سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ فَقَالَ : لَا تَطْلُقُ ، ثُمَّ قَالَ الزُّبَيْدِيُّ : " أَمَا إِنِّي لَوْ كُنْتُ يَوْمَئِذٍ عَلَى حَالٍ كَمَا أَنَا عَلَيْهِ الْيَوْمَ مَا طَلَّقْتُهَا ".
ترجمہ
اسحاق بیان کرتے ہیں کہ ہمیں جریر نے مغیرہ کے واسطے سے خبر دی، وہ کہتے ہیں کہ میں امام ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ سعید نامی ایک شخص نے مجھ سے جھگڑا کیا ہے... پھر انہوں نے مکمل واقعہ بیان کیا۔
راوی کہتے ہیں کہ اس کے بعد ابراہیم نخعی نے فرمایا: وہ شخص ایک مرتبہ میرے پاس بھی آیا تھا اور اس کا دعویٰ تھا کہ اس نے اپنی بیوی سے یہ کہا ہے کہ "تمہارے علاوہ میری ہر بیوی کو تین طلاقیں ہیں"، تو میں نے اسے بتایا کہ قاضی شریح رحمہ اللہ کا موقف یہ تھا کہ جب کلام کی ابتدا طلاق سے کی جائے تو وہ (مستثنیٰ بیوی پر بھی) واقع ہو جاتی ہے۔
ابراہیم نخعی نے مزید کہا کہ مجھے یہ معلوم ہوا کہ جب وہ وہاں سے نکلا تو کہنے لگا کہ کیا یہ محض لوگوں کی اپنی رائے نہیں ہے؟ پھر مجھے اطلاع ملی کہ اس نے پرہیزگاری اختیار کرتے ہوئے اس عورت کو چھوڑ دیا۔
جریر کہتے ہیں کہ بعد ازاں میری ملاقات سعید زبیدی سے ہوئی اور میں نے ان سے اس واقعے کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ میں نے اس بارے میں سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے فتویٰ لیا تھا اور انہوں نے فرمایا تھا کہ طلاق واقع نہیں ہوتی، پھر سعید زبیدی نے کہا کہ سنو! اگر اس دن میری علمی حالت و فہم ویسا ہوتا جیسا کہ آج ہے، تو میں اس عورت کو کبھی خود سے جدا نہ کرتا۔
راوی کہتے ہیں کہ اس کے بعد ابراہیم نخعی نے فرمایا: وہ شخص ایک مرتبہ میرے پاس بھی آیا تھا اور اس کا دعویٰ تھا کہ اس نے اپنی بیوی سے یہ کہا ہے کہ "تمہارے علاوہ میری ہر بیوی کو تین طلاقیں ہیں"، تو میں نے اسے بتایا کہ قاضی شریح رحمہ اللہ کا موقف یہ تھا کہ جب کلام کی ابتدا طلاق سے کی جائے تو وہ (مستثنیٰ بیوی پر بھی) واقع ہو جاتی ہے۔
ابراہیم نخعی نے مزید کہا کہ مجھے یہ معلوم ہوا کہ جب وہ وہاں سے نکلا تو کہنے لگا کہ کیا یہ محض لوگوں کی اپنی رائے نہیں ہے؟ پھر مجھے اطلاع ملی کہ اس نے پرہیزگاری اختیار کرتے ہوئے اس عورت کو چھوڑ دیا۔
جریر کہتے ہیں کہ بعد ازاں میری ملاقات سعید زبیدی سے ہوئی اور میں نے ان سے اس واقعے کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ میں نے اس بارے میں سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے فتویٰ لیا تھا اور انہوں نے فرمایا تھا کہ طلاق واقع نہیں ہوتی، پھر سعید زبیدی نے کہا کہ سنو! اگر اس دن میری علمی حالت و فہم ویسا ہوتا جیسا کہ آج ہے، تو میں اس عورت کو کبھی خود سے جدا نہ کرتا۔
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ مَالِكٍ اللَّخْمِيِّ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا مُعَاذُ ، مَا خَلَقَ اللهُ شَيْئًا عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنَ الْعَتَاقِ ، وَلَا خَلَقَ اللهُ شَيْئًا عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ أَبْغَضَ إِلَيْهِ مِنَ الطَّلَاقِ .
فَإِذَا قَالَ الرَّجُلُ لِمَمْلُوكِهِ : أَنْتَ حُرٌّ إِنْ شَاءَ اللهُ - فَهُوَ حُرٌّ ، وَلَا اسْتِثْنَاءَ لَهُ . وَإِذَا قَالَ لِامْرَأَتِهِ : أَنْتِ طَالِقٌ إِنْ شَاءَ اللهُ - فَلَهُ اسْتِثْنَاؤُهُ ، وَلَا طَلَاقَ فِيهِ " .
هَذَا مُنْقَطِعٌ .
1691 \ 2 - قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ - بِهِ.
فَإِذَا قَالَ الرَّجُلُ لِمَمْلُوكِهِ : أَنْتَ حُرٌّ إِنْ شَاءَ اللهُ - فَهُوَ حُرٌّ ، وَلَا اسْتِثْنَاءَ لَهُ . وَإِذَا قَالَ لِامْرَأَتِهِ : أَنْتِ طَالِقٌ إِنْ شَاءَ اللهُ - فَلَهُ اسْتِثْنَاؤُهُ ، وَلَا طَلَاقَ فِيهِ " .
هَذَا مُنْقَطِعٌ .
1691 \ 2 - قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ - بِهِ.
ترجمہ
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اے معاذ! اللہ تعالیٰ نے روئے زمین پر کوئی ایسی چیز پیدا نہیں فرمائی جو اسے غلاموں کو آزاد کرنے سے زیادہ محبوب ہو، اور اللہ تعالیٰ نے روئے زمین پر کوئی ایسی چیز پیدا نہیں فرمائی جو اسے طلاق سے زیادہ ناپسندیدہ ہو، چنانچہ جب کوئی شخص اپنے غلام سے کہے کہ تو آزاد ہے « إِنْ شَاءَ اللهُ » (اگر اللہ نے چاہا)، تو وہ آزاد ہو جائے گا اور اس پر کسی استثنا کا اطلاق نہیں ہوگا، لیکن جب وہ اپنی بیوی سے کہے کہ تجھے طلاق ہے « إِنْ شَاءَ اللهُ » (اگر اللہ نے چاہا)، تو اس کے لیے یہ استثنا معتبر ہوگا اور طلاق واقع نہیں ہوگی۔“
محدثین کے نزدیک اس حدیث کی سند میں انقطاع پایا جاتا ہے یعنی یہ منقطع روایت ہے۔
محدثین کے نزدیک اس حدیث کی سند میں انقطاع پایا جاتا ہے یعنی یہ منقطع روایت ہے۔