المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الوليمة— ولیمے کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ سكنى المعتدة مِنْ الطلاق الثلاث باب: تین طلاق والی معتدہ عورت کی رہائش کا بیان۔
إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ ، قَالَ : سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ عَنِ الْمُطَلَّقَةِ ثَلَاثًا ، أَيْنَ تَسْتَعِدُّ ؟ فَقَالَ : فِي بَيْتِ زَوْجِهَا ، فَقُلْتُ لَهُ : فَأَيْنَ حَدِيثُ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ ؟ قَالَ : تِلْكَ امْرَأَةٌ فَتَنَتِ النَّاسَ ، كَانَتْ لَسِنَةً . أَوْ قَالَ : كَانَتِ امْرَأَةً فِي لِسَانِهَا شَرٌّ عَلَى أَحْمَائِهَا .
1689 \ 2 - أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي مَيْمُونُ بْنُ مِهْرَانَ ، قَالَ : ذَاكَرْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ ، فَذَكَرَ نَحْوَ الْأَوَّلِ.
1689 \ 3 - أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ ، ثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ ، قَالَ : أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَسَأَلْتُ عَنْ أَفْقَهِ أَهْلِهَا ، فَدُفِعْتُ إِلَى سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، فَسَأَلْتُهُ عَنِ الْمُطَلَّقَةِ ثَلَاثًا أَيْنَ تَسْتَعِدُّ ؟ فَقَالَ : فِي بَيْتِ زَوْجِهَا ، قُلْتُ : " فَإِنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ أُخْتَ الضَّحَّاكِ بْنِ قَيْسٍ طَلَّقَهَا زَوْجُهَا ثَلَاثًا ، فَاعْتَدَّتْ فِي بَيْتِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ " . فَقَالَ : " تِلْكَ امْرَأَةٌ لَسِنَةٌ ".میمون بن مہران رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے جلیل القدر تابعی حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے اس مطلقہ خاتون کے بارے میں دریافت کیا جسے تین طلاقیں دی گئی ہوں کہ وہ اپنی عدت کہاں گزارے گی؟ انہوں نے جواب دیا: ”وہ اپنے شوہر ہی کے گھر میں عدت گزارے گی“، میں نے ان سے عرض کیا کہ پھر حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کی اس حدیث کا کیا بنے گا (جس میں ان کے دوسری جگہ عدت گزارنے کا ذکر ہے)؟ انہوں نے فرمایا: ”وہ ایسی خاتون تھیں جنہوں نے (اس معاملے میں) لوگوں کو الجھن میں ڈال دیا، وہ بہت تیز زبان تھیں“، یا یہ فرمایا کہ ”اپنی زبان کی درازی کی وجہ سے وہ اپنے سسرال والوں کے لیے تکلیف دہ تھیں“۔
امام عبد الرزاق نے ابن جریج کے واسطے سے میمون بن مہران سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے حضرت سعید بن مسیب سے اس مسئلے میں علمی مذاکرہ کیا اور پہلی روایت کی مثل ہی ذکر کیا۔
میمون بن مہران رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں مدینہ منورہ آیا اور وہاں کے سب سے بڑے فقیہ کے بارے میں پوچھا تو مجھے حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ کی طرف رہنمائی کی گئی، میں نے ان سے پوچھا کہ تین طلاق پانے والی عورت کہاں عدت گزارے؟ انہوں نے فرمایا: ”اپنے شوہر کے گھر میں“، میں نے عرض کیا کہ حضرت ضحاک بن قیس کی ہمشیرہ حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کو جب ان کے شوہر نے تین طلاقیں دیں تو انہوں نے حضرت ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے گھر میں عدت گزاری تھی، اس پر سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے فرمایا: ”وہ ایک دراز زبان عورت تھیں (اسی وجہ سے انہیں وہاں سے منتقل ہونے کی اجازت ملی تھی)“۔