المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الوليمة— ولیمے کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الاستثناء فِي الطلاق باب: طلاق میں استثناء (یعنی ان شاء اللہ کہنے) کے احکام و مسائل کا بیان۔
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ مَالِكٍ اللَّخْمِيِّ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا مُعَاذُ ، مَا خَلَقَ اللهُ شَيْئًا عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنَ الْعَتَاقِ ، وَلَا خَلَقَ اللهُ شَيْئًا عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ أَبْغَضَ إِلَيْهِ مِنَ الطَّلَاقِ .
فَإِذَا قَالَ الرَّجُلُ لِمَمْلُوكِهِ : أَنْتَ حُرٌّ إِنْ شَاءَ اللهُ - فَهُوَ حُرٌّ ، وَلَا اسْتِثْنَاءَ لَهُ . وَإِذَا قَالَ لِامْرَأَتِهِ : أَنْتِ طَالِقٌ إِنْ شَاءَ اللهُ - فَلَهُ اسْتِثْنَاؤُهُ ، وَلَا طَلَاقَ فِيهِ " .
هَذَا مُنْقَطِعٌ .
1691 \ 2 - قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ - بِهِ.سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اے معاذ! اللہ تعالیٰ نے روئے زمین پر کوئی ایسی چیز پیدا نہیں فرمائی جو اسے غلاموں کو آزاد کرنے سے زیادہ محبوب ہو، اور اللہ تعالیٰ نے روئے زمین پر کوئی ایسی چیز پیدا نہیں فرمائی جو اسے طلاق سے زیادہ ناپسندیدہ ہو، چنانچہ جب کوئی شخص اپنے غلام سے کہے کہ تو آزاد ہے « إِنْ شَاءَ اللهُ » (اگر اللہ نے چاہا)، تو وہ آزاد ہو جائے گا اور اس پر کسی استثنا کا اطلاق نہیں ہوگا، لیکن جب وہ اپنی بیوی سے کہے کہ تجھے طلاق ہے « إِنْ شَاءَ اللهُ » (اگر اللہ نے چاہا)، تو اس کے لیے یہ استثنا معتبر ہوگا اور طلاق واقع نہیں ہوگی۔“
محدثین کے نزدیک اس حدیث کی سند میں انقطاع پایا جاتا ہے یعنی یہ منقطع روایت ہے۔