❮
❯
حدیث نمبر: 1600
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا الْمُسْجِعُ بْنُ مُصْعَبٍ الْبَصْرِيُّ ، حَدَّثَتْنِي رَبِيعَةُ ، حَدَّثَتْنِي أُمَيَّةُ ، عَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ أَبِي عَسِيبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ : إِنَّ امْرَأَةً مِنْ جُرَشَ أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَعِيرٍ ، فَنَادَتْ : يَا عَائِشَةُ ، أَعِينِينِي بِدَعْوَةٍ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، تُسْكِنُنِي أَوْ تُطَيِّبُنِي بِهَا ! وَأَنَّهُ قَالَ لَهَا : " ضَعِي يَدَكِ الْيُمْنَى عَلَى فُؤَادِكِ فَامْسَحِيهِ ، وَقُولِي : بِسْمِ اللهِ ، اللَّهُمَّ دَاوِنِي بِدَوَائِكَ ، وَاشْفِنِي بِشِفَائِكَ ، وَأَغْنِنِي بِغِنَاكَ وَبِفَضْلِكَ عَمَّنْ سِوَاكَ ، وَاحْدِرْ عَنِّي أَذَاكَ " .
قَالَتْ رَبِيعَةُ : فَدَعَوْتُ بِهِ ، فَوَجَدْتُهُ جَيِّدًا . قَالَ : وَأَظُنُّ رَبِيعَةَ قَالَتْ فِي هَذَا الْحَدِيثِ : إِنَّ الْمَرْأَةَ كَانَتْ غَيْرَى .
ترجمہ

امام ابو یعلیٰ نے روایت کیا ہے کہ سیدہ میمونہ بنت ابی عسیب رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جرش نامی علاقے کی ایک خاتون اونٹ پر سوار ہو کر نبی کریم ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئی اور پکار کر عرض کیا: اے عائشہ (رضی اللہ عنہا)! اللہ کے رسول ﷺ سے مجھے کوئی ایسی دعا لے دیجیے جو مجھے سکون بخش دے یا جس کے ذریعے وہ مجھے اطمینان عطا فرما دیں! تو آپ ﷺ نے اس خاتون سے ارشاد فرمایا: ”اپنا دایاں ہاتھ اپنے دل پر رکھ کر اسے ملو اور یہ کہو: «بِسْمِ اللهِ ، اللَّهُمَّ دَاوِنِي بِدَوَائِكَ ، وَاشْفِنِي بِشِفَائِكَ ، وَأَغْنِنِي بِغِنَاكَ وَبِفَضْلِكَ عَمَّنْ سِوَاكَ ، وَاحْدِرْ عَنِّي أَذَاكَ» (اللہ کے نام سے؛ اے اللہ! اپنی خاص دوا سے میرا علاج فرما، اپنی شفا سے مجھے تندرستی عطا کر، اور اپنی تونگری اور اپنے فضل کے ذریعے مجھے اپنے سوا ہر کسی سے بے نیاز کر دے، اور مجھ سے اس تکلیف کو دور فرما دے)۔“
ربیعہ کہتی ہیں کہ میں نے خود یہ دعا مانگی تو اسے نہایت زود اثر اور بہترین پایا؛ راوی کا بیان ہے کہ میرا خیال ہے ربیعہ نے اس حدیث میں یہ بھی ذکر کیا تھا کہ وہ خاتون غیرت و حسد کی کیفیت کی وجہ سے سخت اضطراب میں مبتلا تھی۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب النكاح / حدیث: 1600
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :قال البوصيري: ضعيف، لجهالة بعض رواته. »
«أخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 72»