کتب حدیث ›
المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب
› باب: نبی کریم ﷺ کے اپنے لیے یا دوسروں کے لیے بغیر مہر نکاح کرانے کا بیان۔
قَالَ عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ هَارُونَ الْوَاسِطِيُّ الْغَسَّانِيُّ ، ثَنَا فَائِدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : وَاللهِ إِنَّا لَجُلُوسٌ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذْ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، أَهْلَكَنِي الشَّبَقُ وَالْجُوعُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا أَعْرَابِيُّ ، الشَّبَقُ وَالْجُوعُ ؟ " قَالَ : هُوَ ذَاكَ ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَاذْهَبْ ، فَأَوَّلُ امْرَأَةٍ تَلْقَاهَا لَيْسَ لَهَا زَوْجٌ فَهِيَ امْرَأَتُكَ " .
فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ : فَدَخَلْتُ نَخْلَ بَنِي النَّجَّارِ ، فَإِذَا جَارِيَةٌ تَخْتَرِفُ فِي زِنْبِيلٍ ، فَقُلْتُ لَهَا : يَا ذَاتَ الزِّنْبِيلِ ، هَلْ لَكِ زَوْجٌ ؟ قَالَتْ : لَا ، قَالَ : انْزِلِي ، فَقَدْ زَوَّجَنِيكِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَنَزَلَتْ ، فَانْطَلَقْتُ مَعَهَا إِلَى مَنْزِلِهَا ، فَقَالَتْ لِأَبِيهَا : إِنَّ هَذَا الْأَعْرَابِيَّ أَتَانِي وَأَنَا أَخْتَرِفُ فِي الزِّنْبِيلِ ، فَسَأَلَنِي : هَلْ لَكِ زَوْجٌ ؟ فَقُلْتُ : لَا ، فَقَالَ : انْزِلِي ، فَقَدْ زَوَّجَنِيكِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
فَخَرَجَ أَبُو الْجَارِيَةِ إِلَى الْأَعْرَابِيِّ ، فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ : مَا ذَاتُ الزِّنْبِيلِ مِنْكَ ؟ قَالَ : ابْنَتِي ، قَالَ : هَلْ لَهَا زَوْجٌ ؟ قَالَ : لَا ، قَالَ : فَقَدْ زَوَّجَنِيهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
فَانْطَلَقَتِ الْجَارِيَةُ وَأَبُو الْجَارِيَةِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخْبَرَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَلْ لَهَا زَوْجٌ ؟ " قَالَ : لَا ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اذْهَبْ ، فَأَحْسِنْ جِهَازَهَا ، ثُمَّ ابْعَثْ بِهَا إِلَيْهِ " .
فَانْطَلَقَ أَبُو الْجَارِيَةِ فَجَهَّزَ ابْنَتَهُ ، وَأَحْسَنَ الْقِيَامَ عَلَيْهَا ، ثُمَّ بَعَثَ مَعَهَا بِتَمْرٍ وَلَبَنٍ . فَجَاءَتْ بِهِ إِلَى بَيْتِ الْأَعْرَابِيِّ ، وَانْصَرَفَ الْأَعْرَابِيُّ إِلَى بَيْتِهِ ، فَرَأَى جَارِيَةً مُصَنَّعَةً ، وَرَأَى تَمْرًا وَلَبَنًا ، فَقَامَ إِلَى الصَّلَاةِ .
فَلَمَّا طَلَعَ الْفَجْرُ غَدَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَغَدَا أَبُو الْجَارِيَةِ عَلَى ابْنَتِهِ ، فَقَالَتْ : وَاللهِ مَا قَرُبَنَا وَلَا قَرُبَ تَمْرَنَا وَلَا لَبَنَنَا !
قَالَ : فَانْطَلَقَ أَبُو الْجَارِيَةِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ ، فَدَعَا الْأَعْرَابِيَّ فَقَالَ : " يَا أَعْرَابِيُّ ، مَا مَنَعَكَ أَنْ تَكُونَ أَلْمَمْتَ بِأَهْلِكَ ؟ " قَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، انْصَرَفْتُ مِنْ عِنْدِكَ ، وَدَخَلْتُ الْمَنْزِلَ وَإِذَا بِجَارِيَةٍ مُصَنَّعَةٍ ، وَرَأَيْتُ تَمْرًا وَلَبَنًا ، فَكَانَ يَجِبُ عَلَيَّ أَنْ أُحْيِيَ لَيْلَتِي إِلَى الصُّبْحِ - يَعْنِي شُكْرًا - فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا أَعْرَابِيُّ ، اذْهَبْ فَأَلِمَّ بِأَهْلِكَ ".
فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ : فَدَخَلْتُ نَخْلَ بَنِي النَّجَّارِ ، فَإِذَا جَارِيَةٌ تَخْتَرِفُ فِي زِنْبِيلٍ ، فَقُلْتُ لَهَا : يَا ذَاتَ الزِّنْبِيلِ ، هَلْ لَكِ زَوْجٌ ؟ قَالَتْ : لَا ، قَالَ : انْزِلِي ، فَقَدْ زَوَّجَنِيكِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَنَزَلَتْ ، فَانْطَلَقْتُ مَعَهَا إِلَى مَنْزِلِهَا ، فَقَالَتْ لِأَبِيهَا : إِنَّ هَذَا الْأَعْرَابِيَّ أَتَانِي وَأَنَا أَخْتَرِفُ فِي الزِّنْبِيلِ ، فَسَأَلَنِي : هَلْ لَكِ زَوْجٌ ؟ فَقُلْتُ : لَا ، فَقَالَ : انْزِلِي ، فَقَدْ زَوَّجَنِيكِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
فَخَرَجَ أَبُو الْجَارِيَةِ إِلَى الْأَعْرَابِيِّ ، فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ : مَا ذَاتُ الزِّنْبِيلِ مِنْكَ ؟ قَالَ : ابْنَتِي ، قَالَ : هَلْ لَهَا زَوْجٌ ؟ قَالَ : لَا ، قَالَ : فَقَدْ زَوَّجَنِيهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
فَانْطَلَقَتِ الْجَارِيَةُ وَأَبُو الْجَارِيَةِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخْبَرَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَلْ لَهَا زَوْجٌ ؟ " قَالَ : لَا ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اذْهَبْ ، فَأَحْسِنْ جِهَازَهَا ، ثُمَّ ابْعَثْ بِهَا إِلَيْهِ " .
فَانْطَلَقَ أَبُو الْجَارِيَةِ فَجَهَّزَ ابْنَتَهُ ، وَأَحْسَنَ الْقِيَامَ عَلَيْهَا ، ثُمَّ بَعَثَ مَعَهَا بِتَمْرٍ وَلَبَنٍ . فَجَاءَتْ بِهِ إِلَى بَيْتِ الْأَعْرَابِيِّ ، وَانْصَرَفَ الْأَعْرَابِيُّ إِلَى بَيْتِهِ ، فَرَأَى جَارِيَةً مُصَنَّعَةً ، وَرَأَى تَمْرًا وَلَبَنًا ، فَقَامَ إِلَى الصَّلَاةِ .
فَلَمَّا طَلَعَ الْفَجْرُ غَدَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَغَدَا أَبُو الْجَارِيَةِ عَلَى ابْنَتِهِ ، فَقَالَتْ : وَاللهِ مَا قَرُبَنَا وَلَا قَرُبَ تَمْرَنَا وَلَا لَبَنَنَا !
قَالَ : فَانْطَلَقَ أَبُو الْجَارِيَةِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ ، فَدَعَا الْأَعْرَابِيَّ فَقَالَ : " يَا أَعْرَابِيُّ ، مَا مَنَعَكَ أَنْ تَكُونَ أَلْمَمْتَ بِأَهْلِكَ ؟ " قَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، انْصَرَفْتُ مِنْ عِنْدِكَ ، وَدَخَلْتُ الْمَنْزِلَ وَإِذَا بِجَارِيَةٍ مُصَنَّعَةٍ ، وَرَأَيْتُ تَمْرًا وَلَبَنًا ، فَكَانَ يَجِبُ عَلَيَّ أَنْ أُحْيِيَ لَيْلَتِي إِلَى الصُّبْحِ - يَعْنِي شُكْرًا - فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا أَعْرَابِيُّ ، اذْهَبْ فَأَلِمَّ بِأَهْلِكَ ".
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کی قسم! ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر تھے کہ اچانک ایک دیہاتی آیا اور عرض گزار ہوا: ”اے اللہ کے رسول! مجھے شہوت کی شدت اور بھوک نے ہلاک کر ڈالا ہے۔“ نبی کریم ﷺ نے دریافت فرمایا: ”اے دیہاتی! کیا شہوت اور بھوک (دونوں نے تجھے نڈھال کیا)؟“ اس نے عرض کی: جی ہاں، یہی معاملہ ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو پھر جاؤ، تمہیں پہلی جو ایسی عورت ملے جس کا شوہر نہ ہو، وہی تمہاری اہلیہ ہے۔“ دیہاتی بیان کرتا ہے کہ پھر میں بنو نجار کے نخلستان میں داخل ہوا تو وہاں ایک لڑکی دیکھی جو ٹوکرے میں کھجوریں چن رہی تھی، میں نے اس سے کہا: ”اے ٹوکرے والی! کیا تمہارا کوئی شوہر ہے؟“ اس نے جواب دیا: ”نہیں۔“ میں نے کہا: ”نیچے اتر آؤ، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے میرا نکاح تم سے کر دیا ہے۔“ وہ کہتا ہے کہ پھر وہ نیچے اتر آئی اور میں اسے لے کر اس کے گھر چلا گیا، وہاں اس نے اپنے والد سے کہا: ”یہ دیہاتی میرے پاس اس وقت آیا جب میں ٹوکرے میں کھجوریں چن رہی تھی، اس نے مجھ سے پوچھا کہ کیا تمہارا شوہر ہے؟ میں نے کہا نہیں، تو اس نے کہا کہ نیچے آ جاؤ کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے میرا نکاح تم سے کر دیا ہے۔“ چنانچہ لڑکی کا باپ دیہاتی کے پاس باہر نکلا تو دیہاتی نے پوچھا: ”یہ ٹوکرے والی آپ کی کیا لگتی ہے؟“ اس نے کہا: ”یہ میری بیٹی ہے۔“ دیہاتی نے پوچھا: ”کیا اس کا شوہر ہے؟“ اس نے کہا: ”نہیں۔“ دیہاتی نے کہا: ”تو پھر رسول اللہ ﷺ نے میرا نکاح اس سے کر دیا ہے۔“ اس کے بعد وہ لڑکی اور اس کا باپ رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور آپ ﷺ کو ماجرا سنایا، تو رسول اللہ ﷺ نے (تصدیق کے لیے) دریافت فرمایا: ”کیا اس کا شوہر ہے؟“ اس نے عرض کی: ”نہیں۔“ تو آپ ﷺ نے حکم فرمایا: ”جاؤ، اس کی رخصتی کا اچھا سامان تیار کرو اور پھر اسے اس کے پاس بھیج دو۔“ چنانچہ اس لڑکی کے والد نے جا کر اپنی بیٹی کا سامانِ رخصتی تیار کیا، اس کی بہترین دیکھ بھال کی اور پھر اس کے ہمراہ کھجوریں اور دودھ بھی بھیجا۔ وہ لڑکی یہ سب سامان لے کر دیہاتی کے گھر پہنچ گئی، اور جب دیہاتی اپنے گھر واپس آیا تو اس نے ایک بنی سنوری دلہن اور کھجوریں و دودھ دیکھا، (یہ دیکھ کر وہ فرطِ شکر سے) نماز پڑھنے کے لیے کھڑا ہو گیا۔ جب صبحِ صادق ہوئی تو وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، اور ادھر لڑکی کا باپ بھی اپنی بیٹی کی خیر خبر لینے پہنچا تو بیٹی نے بتایا: ”اللہ کی قسم! نہ تو وہ ہمارے قریب آئے اور نہ ہی ہماری کھجوروں اور دودھ کو ہاتھ لگایا!“ راوی کہتے ہیں کہ لڑکی کا باپ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ ﷺ کو اس بات کی خبر دی، آپ ﷺ نے دیہاتی کو طلب فرمایا اور پوچھا: ”اے دیہاتی! تمہیں اپنی اہلیہ کے پاس جانے سے کس چیز نے روکا؟“ اس نے عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! میں آپ کے پاس سے رخصت ہو کر جب گھر پہنچا تو وہاں ایک بنی سنوری دلہن، کھجوریں اور دودھ موجود پایا، تو (ان نعمتوں پر شکر گزاری کے طور پر) مجھ پر یہ لازم تھا کہ میں اپنی رات صبح تک (عبادت میں) زندہ رکھوں۔“ تب آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے دیہاتی! اب جاؤ اور اپنی اہلیہ سے ملو۔“
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ ، ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ كِنَانَةَ بْنِ نُعَيْمٍ الْعَدَوِيِّ ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : إِنَّ جُلَيْبِيبًا كَانَ امْرَأً مِنَ الْأَنْصَارِ ، وَكَانَ يَدْخُلُ عَلَى النِّسَاءِ وَيَتَحَدَّثُ إِلَيْهِنَّ .
قَالَ أَبُو بَرْزَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : فَقُلْتُ لِامْرَأَتِي : اتَّقُوا ، لَا يَدْخُلَنَّ عَلَيْكُنَّ جُلَيْبِيبٌ ! قَالَ : وَكَانَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ لِأَحَدِهِمْ أَيِّمٌ لَمْ يُزَوِّجُوهَا حَتَّى يَعْلَمَ هَلْ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا حَاجَةٌ أَوْ لَا .
فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ لِرَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ : " يَا فُلَانُ ، زَوِّجْنِي ابْنَتَكَ " ! قَالَ : نِعِمَّ ، وَنُعْمَةُ عَيْنٍ ! قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي لَسْتُ لِنَفْسِي أُرِيدُهَا " ، قَالَ : فَلِمَنْ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِجُلَيْبِيبٍ " . قَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، نَسْتَأْمِرُ أُمَّهَا .
فَأَتَى فَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ ابْنَتَكِ ، قَالَتْ : نِعِمَّ ، وَنُعْمَةُ عَيْنٍ ! تُزَوِّجُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ! قَالَ : إِنَّهُ لَيْسَ لِنَفْسِهِ يُرِيدُهَا ، قَالَتْ : فَلِمَنْ ؟ قَالَ : لِجُلَيْبِيبٍ ، قَالَتْ : حَلْقَى ! أَلِجُلَيْبِيبٍ ؟ لَا ، لَعَمْرُ اللهِ لَا أَرْفَعُ جُلَيْبِيبًا .
فَلَمَّا قَامَ أَبُوهَا لِيَأْتِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتِ الْفَتَاةُ مِنْ خِدْرِهَا لِأَبَوَيْهَا : مَنْ خَطَبَنِي إِلَيْكُمْ ؟ قَالَا : رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : أَتَرُدُّونَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْرَهُ ؟ ادْفَعُونِي إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّهُ لَنْ يُضَيِّعَنِي . فَذَهَبَ أَبُوهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : شَأْنَكَ بِهَا ، فَزَوَّجَهَا جُلَيْبِيبًا .
قَالَ حَمَّادٌ : قَالَ لِي إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ قُلْتُ لِثَابِتٍ : هَلْ تَدْرِي مَا دَعَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهَا بِهِ ؟ قَالَ : اللَّهُمَّ صُبَّ عَلَيْهِمَا الْخَيْرَ صَبًّا ، وَلَا تَجْعَلْ عَيْشَهُمَا كَدًّا كَدًّا !
قَالَ ثَابِتٌ : فَزَوَّجَهَا إِيَّاهُ .
* قُلْتُ : رَوَاهُ مَعْمَرٌ عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، وَتَابَعَهُ دَيْلَمُ بْنُ غَزْوَانَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، وَرِوَايَةُ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ أَصَحُّ .
قَالَ أَبُو بَرْزَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : فَقُلْتُ لِامْرَأَتِي : اتَّقُوا ، لَا يَدْخُلَنَّ عَلَيْكُنَّ جُلَيْبِيبٌ ! قَالَ : وَكَانَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ لِأَحَدِهِمْ أَيِّمٌ لَمْ يُزَوِّجُوهَا حَتَّى يَعْلَمَ هَلْ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا حَاجَةٌ أَوْ لَا .
فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ لِرَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ : " يَا فُلَانُ ، زَوِّجْنِي ابْنَتَكَ " ! قَالَ : نِعِمَّ ، وَنُعْمَةُ عَيْنٍ ! قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي لَسْتُ لِنَفْسِي أُرِيدُهَا " ، قَالَ : فَلِمَنْ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِجُلَيْبِيبٍ " . قَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، نَسْتَأْمِرُ أُمَّهَا .
فَأَتَى فَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ ابْنَتَكِ ، قَالَتْ : نِعِمَّ ، وَنُعْمَةُ عَيْنٍ ! تُزَوِّجُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ! قَالَ : إِنَّهُ لَيْسَ لِنَفْسِهِ يُرِيدُهَا ، قَالَتْ : فَلِمَنْ ؟ قَالَ : لِجُلَيْبِيبٍ ، قَالَتْ : حَلْقَى ! أَلِجُلَيْبِيبٍ ؟ لَا ، لَعَمْرُ اللهِ لَا أَرْفَعُ جُلَيْبِيبًا .
فَلَمَّا قَامَ أَبُوهَا لِيَأْتِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتِ الْفَتَاةُ مِنْ خِدْرِهَا لِأَبَوَيْهَا : مَنْ خَطَبَنِي إِلَيْكُمْ ؟ قَالَا : رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : أَتَرُدُّونَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْرَهُ ؟ ادْفَعُونِي إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّهُ لَنْ يُضَيِّعَنِي . فَذَهَبَ أَبُوهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : شَأْنَكَ بِهَا ، فَزَوَّجَهَا جُلَيْبِيبًا .
قَالَ حَمَّادٌ : قَالَ لِي إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ قُلْتُ لِثَابِتٍ : هَلْ تَدْرِي مَا دَعَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهَا بِهِ ؟ قَالَ : اللَّهُمَّ صُبَّ عَلَيْهِمَا الْخَيْرَ صَبًّا ، وَلَا تَجْعَلْ عَيْشَهُمَا كَدًّا كَدًّا !
قَالَ ثَابِتٌ : فَزَوَّجَهَا إِيَّاهُ .
* قُلْتُ : رَوَاهُ مَعْمَرٌ عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، وَتَابَعَهُ دَيْلَمُ بْنُ غَزْوَانَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، وَرِوَايَةُ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ أَصَحُّ .
ترجمہ
سیدنا ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا جلیبیب رضی اللہ عنہ ایک انصاری مرد تھے، وہ اکثر خواتین کی مجالس میں جایا کرتے اور ان سے گفتگو کیا کرتے تھے، تو سیدنا ابو برزہ رضی اللہ عنہ نے اپنی اہلیہ سے فرمایا: ”تم لوگ اللہ سے ڈرو، جلیبیب تمہارے پاس ہرگز داخل نہ ہوا کرے“۔ نبی کریم ﷺ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا یہ طریقہ کار تھا کہ جب ان میں سے کسی کی کوئی بیوہ یا بن بیاہی لڑکی ہوتی تو وہ اس کا نکاح اس وقت تک نہیں کرتے تھے جب تک انہیں یہ پتا نہ چل جاتا کہ رسول اللہ ﷺ کو اس کے بارے میں کوئی حاجت ہے یا نہیں۔ ایک دن رسول اللہ ﷺ نے ایک انصاری شخص سے فرمایا: ”اے فلاں! اپنی بیٹی کا نکاح مجھ سے کر دو“۔ اس نے عرض کیا: ”بہت خوب، یہ تو میرے لیے بڑی سعادت اور آنکھوں کی ٹھنڈک ہے“۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں اسے اپنی ذات کے لیے طلب نہیں کر رہا“۔ اس نے پوچھا: ”پھر کس کے لیے؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جلیبیب کے لیے“۔ اس نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! میں اس کی ماں سے مشورہ کر لوں“۔ چنانچہ وہ (اپنی اہلیہ کے پاس) آیا اور کہا کہ رسول اللہ ﷺ تمہاری بیٹی کے لیے رشتہ مانگ رہے ہیں۔ اس نے کہا: ”بہت مبارک، یہ تو بڑی خوش قسمتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے رشتہ ہو!“۔ اس نے بتایا: ”وہ اپنے لیے نہیں مانگ رہے“۔ اس نے پوچھا: ”پھر کس کے لیے؟“ اس نے کہا: ”جلیبیب کے لیے“۔ وہ پکار اٹھی: ”ہائے افسوس! کیا جلیبیب کے لیے؟ نہیں، اللہ کی قسم! میں جلیبیب کو قبول نہیں کروں گی“۔ جب اس کا باپ نبی کریم ﷺ کے پاس (معذرت کے لیے) جانے کے لیے اٹھا تو اس لڑکی نے اپنے حجرے سے والدین سے دریافت کیا: ”میرا رشتہ کس نے مانگا ہے؟“ انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے۔ اس نے کہا: ”کیا تم رسول اللہ ﷺ کے حکم کو رد کر رہے ہو؟ مجھے رسول اللہ ﷺ کے سپرد کر دو، وہ مجھے ہرگز ضائع نہیں کریں گے“۔ پس اس کا باپ نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور عرض کیا: ”آپ جیسا مناسب سمجھیں“، چنانچہ آپ ﷺ نے اس کا نکاح سیدنا جلیبیب رضی اللہ عنہ سے کر دیا۔ حماد کہتے ہیں کہ مجھ سے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے کہا کہ میں نے ثابت سے پوچھا: ”کیا آپ جانتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے اس لڑکی کے لیے کیا دعا فرمائی تھی؟“ انہوں نے بتایا کہ آپ ﷺ نے یوں دعا فرمائی: «اللَّهُمَّ صُبَّ عَلَيْهِمَا الْخَيْرَ صَبًّا ، وَلَا تَجْعَلْ عَيْشَهُمَا كَدًّا كَدًّا !» ”اے اللہ! ان دونوں پر خیر و بھلائی کے خوب دھارے بہا دے اور ان کی معیشت کو تنگی و مشقت والی نہ بنانا“۔ ثابت کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے ان کا نکاح کر دیا۔ میں کہتا ہوں کہ اسے معمر نے ثابت کے واسطے سے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، اور دیلم بن غزوان نے بھی ثابت عن انس کی سند سے اس کی پیروی کی ہے، لیکن حماد بن سلمہ کی (سیدنا ابو برزہ رضی اللہ عنہ سے مروی) یہ روایت زیادہ صحیح ہے۔