❮
❯
حدیث نمبر: 1585
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ ، ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ كِنَانَةَ بْنِ نُعَيْمٍ الْعَدَوِيِّ ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : إِنَّ جُلَيْبِيبًا كَانَ امْرَأً مِنَ الْأَنْصَارِ ، وَكَانَ يَدْخُلُ عَلَى النِّسَاءِ وَيَتَحَدَّثُ إِلَيْهِنَّ .
قَالَ أَبُو بَرْزَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : فَقُلْتُ لِامْرَأَتِي : اتَّقُوا ، لَا يَدْخُلَنَّ عَلَيْكُنَّ جُلَيْبِيبٌ ! قَالَ : وَكَانَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ لِأَحَدِهِمْ أَيِّمٌ لَمْ يُزَوِّجُوهَا حَتَّى يَعْلَمَ هَلْ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا حَاجَةٌ أَوْ لَا .
فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ لِرَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ : " يَا فُلَانُ ، زَوِّجْنِي ابْنَتَكَ " ! قَالَ : نِعِمَّ ، وَنُعْمَةُ عَيْنٍ ! قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي لَسْتُ لِنَفْسِي أُرِيدُهَا " ، قَالَ : فَلِمَنْ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِجُلَيْبِيبٍ " . قَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، نَسْتَأْمِرُ أُمَّهَا .
فَأَتَى فَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ ابْنَتَكِ ، قَالَتْ : نِعِمَّ ، وَنُعْمَةُ عَيْنٍ ! تُزَوِّجُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ! قَالَ : إِنَّهُ لَيْسَ لِنَفْسِهِ يُرِيدُهَا ، قَالَتْ : فَلِمَنْ ؟ قَالَ : لِجُلَيْبِيبٍ ، قَالَتْ : حَلْقَى ! أَلِجُلَيْبِيبٍ ؟ لَا ، لَعَمْرُ اللهِ لَا أَرْفَعُ جُلَيْبِيبًا .
فَلَمَّا قَامَ أَبُوهَا لِيَأْتِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتِ الْفَتَاةُ مِنْ خِدْرِهَا لِأَبَوَيْهَا : مَنْ خَطَبَنِي إِلَيْكُمْ ؟ قَالَا : رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : أَتَرُدُّونَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْرَهُ ؟ ادْفَعُونِي إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّهُ لَنْ يُضَيِّعَنِي . فَذَهَبَ أَبُوهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : شَأْنَكَ بِهَا ، فَزَوَّجَهَا جُلَيْبِيبًا .
قَالَ حَمَّادٌ : قَالَ لِي إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ قُلْتُ لِثَابِتٍ : هَلْ تَدْرِي مَا دَعَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهَا بِهِ ؟ قَالَ : اللَّهُمَّ صُبَّ عَلَيْهِمَا الْخَيْرَ صَبًّا ، وَلَا تَجْعَلْ عَيْشَهُمَا كَدًّا كَدًّا !
قَالَ ثَابِتٌ : فَزَوَّجَهَا إِيَّاهُ .
* قُلْتُ : رَوَاهُ مَعْمَرٌ عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، وَتَابَعَهُ دَيْلَمُ بْنُ غَزْوَانَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، وَرِوَايَةُ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ أَصَحُّ .
ترجمہ

سیدنا ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا جلیبیب رضی اللہ عنہ ایک انصاری مرد تھے، وہ اکثر خواتین کی مجالس میں جایا کرتے اور ان سے گفتگو کیا کرتے تھے، تو سیدنا ابو برزہ رضی اللہ عنہ نے اپنی اہلیہ سے فرمایا: ”تم لوگ اللہ سے ڈرو، جلیبیب تمہارے پاس ہرگز داخل نہ ہوا کرے“۔ نبی کریم ﷺ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا یہ طریقہ کار تھا کہ جب ان میں سے کسی کی کوئی بیوہ یا بن بیاہی لڑکی ہوتی تو وہ اس کا نکاح اس وقت تک نہیں کرتے تھے جب تک انہیں یہ پتا نہ چل جاتا کہ رسول اللہ ﷺ کو اس کے بارے میں کوئی حاجت ہے یا نہیں۔ ایک دن رسول اللہ ﷺ نے ایک انصاری شخص سے فرمایا: ”اے فلاں! اپنی بیٹی کا نکاح مجھ سے کر دو“۔ اس نے عرض کیا: ”بہت خوب، یہ تو میرے لیے بڑی سعادت اور آنکھوں کی ٹھنڈک ہے“۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں اسے اپنی ذات کے لیے طلب نہیں کر رہا“۔ اس نے پوچھا: ”پھر کس کے لیے؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جلیبیب کے لیے“۔ اس نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! میں اس کی ماں سے مشورہ کر لوں“۔ چنانچہ وہ (اپنی اہلیہ کے پاس) آیا اور کہا کہ رسول اللہ ﷺ تمہاری بیٹی کے لیے رشتہ مانگ رہے ہیں۔ اس نے کہا: ”بہت مبارک، یہ تو بڑی خوش قسمتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے رشتہ ہو!“۔ اس نے بتایا: ”وہ اپنے لیے نہیں مانگ رہے“۔ اس نے پوچھا: ”پھر کس کے لیے؟“ اس نے کہا: ”جلیبیب کے لیے“۔ وہ پکار اٹھی: ”ہائے افسوس! کیا جلیبیب کے لیے؟ نہیں، اللہ کی قسم! میں جلیبیب کو قبول نہیں کروں گی“۔ جب اس کا باپ نبی کریم ﷺ کے پاس (معذرت کے لیے) جانے کے لیے اٹھا تو اس لڑکی نے اپنے حجرے سے والدین سے دریافت کیا: ”میرا رشتہ کس نے مانگا ہے؟“ انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے۔ اس نے کہا: ”کیا تم رسول اللہ ﷺ کے حکم کو رد کر رہے ہو؟ مجھے رسول اللہ ﷺ کے سپرد کر دو، وہ مجھے ہرگز ضائع نہیں کریں گے“۔ پس اس کا باپ نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور عرض کیا: ”آپ جیسا مناسب سمجھیں“، چنانچہ آپ ﷺ نے اس کا نکاح سیدنا جلیبیب رضی اللہ عنہ سے کر دیا۔ حماد کہتے ہیں کہ مجھ سے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے کہا کہ میں نے ثابت سے پوچھا: ”کیا آپ جانتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے اس لڑکی کے لیے کیا دعا فرمائی تھی؟“ انہوں نے بتایا کہ آپ ﷺ نے یوں دعا فرمائی: «اللَّهُمَّ صُبَّ عَلَيْهِمَا الْخَيْرَ صَبًّا ، وَلَا تَجْعَلْ عَيْشَهُمَا كَدًّا كَدًّا !» ”اے اللہ! ان دونوں پر خیر و بھلائی کے خوب دھارے بہا دے اور ان کی معیشت کو تنگی و مشقت والی نہ بنانا“۔ ثابت کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے ان کا نکاح کر دیا۔ میں کہتا ہوں کہ اسے معمر نے ثابت کے واسطے سے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، اور دیلم بن غزوان نے بھی ثابت عن انس کی سند سے اس کی پیروی کی ہے، لیکن حماد بن سلمہ کی (سیدنا ابو برزہ رضی اللہ عنہ سے مروی) یہ روایت زیادہ صحیح ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب النكاح / حدیث: 1585
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :الحديث بإسناد أبي يعلى صحيح، وهذه الطريق هي المحفوظة، فالحديث من مسند أبي برزة وليس من مسند أنس بن مالك وهذا الحديث ليس على شرط الحافظ في هذا الكتاب، فهو موجود في مسند الإمام أحمد. »
«أخرجه مسند أحمد برقم: 19285، وأخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 15976، وأخرجه صحيح ابن حبان برقم: 4035، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 3123/1»