❮
❯
حدیث نمبر: 1584
قَالَ عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ هَارُونَ الْوَاسِطِيُّ الْغَسَّانِيُّ ، ثَنَا فَائِدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : وَاللهِ إِنَّا لَجُلُوسٌ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذْ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، أَهْلَكَنِي الشَّبَقُ وَالْجُوعُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا أَعْرَابِيُّ ، الشَّبَقُ وَالْجُوعُ ؟ " قَالَ : هُوَ ذَاكَ ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَاذْهَبْ ، فَأَوَّلُ امْرَأَةٍ تَلْقَاهَا لَيْسَ لَهَا زَوْجٌ فَهِيَ امْرَأَتُكَ " .
فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ : فَدَخَلْتُ نَخْلَ بَنِي النَّجَّارِ ، فَإِذَا جَارِيَةٌ تَخْتَرِفُ فِي زِنْبِيلٍ ، فَقُلْتُ لَهَا : يَا ذَاتَ الزِّنْبِيلِ ، هَلْ لَكِ زَوْجٌ ؟ قَالَتْ : لَا ، قَالَ : انْزِلِي ، فَقَدْ زَوَّجَنِيكِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَنَزَلَتْ ، فَانْطَلَقْتُ مَعَهَا إِلَى مَنْزِلِهَا ، فَقَالَتْ لِأَبِيهَا : إِنَّ هَذَا الْأَعْرَابِيَّ أَتَانِي وَأَنَا أَخْتَرِفُ فِي الزِّنْبِيلِ ، فَسَأَلَنِي : هَلْ لَكِ زَوْجٌ ؟ فَقُلْتُ : لَا ، فَقَالَ : انْزِلِي ، فَقَدْ زَوَّجَنِيكِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
فَخَرَجَ أَبُو الْجَارِيَةِ إِلَى الْأَعْرَابِيِّ ، فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ : مَا ذَاتُ الزِّنْبِيلِ مِنْكَ ؟ قَالَ : ابْنَتِي ، قَالَ : هَلْ لَهَا زَوْجٌ ؟ قَالَ : لَا ، قَالَ : فَقَدْ زَوَّجَنِيهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
فَانْطَلَقَتِ الْجَارِيَةُ وَأَبُو الْجَارِيَةِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخْبَرَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَلْ لَهَا زَوْجٌ ؟ " قَالَ : لَا ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اذْهَبْ ، فَأَحْسِنْ جِهَازَهَا ، ثُمَّ ابْعَثْ بِهَا إِلَيْهِ " .
فَانْطَلَقَ أَبُو الْجَارِيَةِ فَجَهَّزَ ابْنَتَهُ ، وَأَحْسَنَ الْقِيَامَ عَلَيْهَا ، ثُمَّ بَعَثَ مَعَهَا بِتَمْرٍ وَلَبَنٍ . فَجَاءَتْ بِهِ إِلَى بَيْتِ الْأَعْرَابِيِّ ، وَانْصَرَفَ الْأَعْرَابِيُّ إِلَى بَيْتِهِ ، فَرَأَى جَارِيَةً مُصَنَّعَةً ، وَرَأَى تَمْرًا وَلَبَنًا ، فَقَامَ إِلَى الصَّلَاةِ .
فَلَمَّا طَلَعَ الْفَجْرُ غَدَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَغَدَا أَبُو الْجَارِيَةِ عَلَى ابْنَتِهِ ، فَقَالَتْ : وَاللهِ مَا قَرُبَنَا وَلَا قَرُبَ تَمْرَنَا وَلَا لَبَنَنَا !
قَالَ : فَانْطَلَقَ أَبُو الْجَارِيَةِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ ، فَدَعَا الْأَعْرَابِيَّ فَقَالَ : " يَا أَعْرَابِيُّ ، مَا مَنَعَكَ أَنْ تَكُونَ أَلْمَمْتَ بِأَهْلِكَ ؟ " قَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، انْصَرَفْتُ مِنْ عِنْدِكَ ، وَدَخَلْتُ الْمَنْزِلَ وَإِذَا بِجَارِيَةٍ مُصَنَّعَةٍ ، وَرَأَيْتُ تَمْرًا وَلَبَنًا ، فَكَانَ يَجِبُ عَلَيَّ أَنْ أُحْيِيَ لَيْلَتِي إِلَى الصُّبْحِ - يَعْنِي شُكْرًا - فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا أَعْرَابِيُّ ، اذْهَبْ فَأَلِمَّ بِأَهْلِكَ ".
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کی قسم! ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر تھے کہ اچانک ایک دیہاتی آیا اور عرض گزار ہوا: ”اے اللہ کے رسول! مجھے شہوت کی شدت اور بھوک نے ہلاک کر ڈالا ہے۔“ نبی کریم ﷺ نے دریافت فرمایا: ”اے دیہاتی! کیا شہوت اور بھوک (دونوں نے تجھے نڈھال کیا)؟“ اس نے عرض کی: جی ہاں، یہی معاملہ ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو پھر جاؤ، تمہیں پہلی جو ایسی عورت ملے جس کا شوہر نہ ہو، وہی تمہاری اہلیہ ہے۔“ دیہاتی بیان کرتا ہے کہ پھر میں بنو نجار کے نخلستان میں داخل ہوا تو وہاں ایک لڑکی دیکھی جو ٹوکرے میں کھجوریں چن رہی تھی، میں نے اس سے کہا: ”اے ٹوکرے والی! کیا تمہارا کوئی شوہر ہے؟“ اس نے جواب دیا: ”نہیں۔“ میں نے کہا: ”نیچے اتر آؤ، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے میرا نکاح تم سے کر دیا ہے۔“ وہ کہتا ہے کہ پھر وہ نیچے اتر آئی اور میں اسے لے کر اس کے گھر چلا گیا، وہاں اس نے اپنے والد سے کہا: ”یہ دیہاتی میرے پاس اس وقت آیا جب میں ٹوکرے میں کھجوریں چن رہی تھی، اس نے مجھ سے پوچھا کہ کیا تمہارا شوہر ہے؟ میں نے کہا نہیں، تو اس نے کہا کہ نیچے آ جاؤ کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے میرا نکاح تم سے کر دیا ہے۔“ چنانچہ لڑکی کا باپ دیہاتی کے پاس باہر نکلا تو دیہاتی نے پوچھا: ”یہ ٹوکرے والی آپ کی کیا لگتی ہے؟“ اس نے کہا: ”یہ میری بیٹی ہے۔“ دیہاتی نے پوچھا: ”کیا اس کا شوہر ہے؟“ اس نے کہا: ”نہیں۔“ دیہاتی نے کہا: ”تو پھر رسول اللہ ﷺ نے میرا نکاح اس سے کر دیا ہے۔“ اس کے بعد وہ لڑکی اور اس کا باپ رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور آپ ﷺ کو ماجرا سنایا، تو رسول اللہ ﷺ نے (تصدیق کے لیے) دریافت فرمایا: ”کیا اس کا شوہر ہے؟“ اس نے عرض کی: ”نہیں۔“ تو آپ ﷺ نے حکم فرمایا: ”جاؤ، اس کی رخصتی کا اچھا سامان تیار کرو اور پھر اسے اس کے پاس بھیج دو۔“ چنانچہ اس لڑکی کے والد نے جا کر اپنی بیٹی کا سامانِ رخصتی تیار کیا، اس کی بہترین دیکھ بھال کی اور پھر اس کے ہمراہ کھجوریں اور دودھ بھی بھیجا۔ وہ لڑکی یہ سب سامان لے کر دیہاتی کے گھر پہنچ گئی، اور جب دیہاتی اپنے گھر واپس آیا تو اس نے ایک بنی سنوری دلہن اور کھجوریں و دودھ دیکھا، (یہ دیکھ کر وہ فرطِ شکر سے) نماز پڑھنے کے لیے کھڑا ہو گیا۔ جب صبحِ صادق ہوئی تو وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، اور ادھر لڑکی کا باپ بھی اپنی بیٹی کی خیر خبر لینے پہنچا تو بیٹی نے بتایا: ”اللہ کی قسم! نہ تو وہ ہمارے قریب آئے اور نہ ہی ہماری کھجوروں اور دودھ کو ہاتھ لگایا!“ راوی کہتے ہیں کہ لڑکی کا باپ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ ﷺ کو اس بات کی خبر دی، آپ ﷺ نے دیہاتی کو طلب فرمایا اور پوچھا: ”اے دیہاتی! تمہیں اپنی اہلیہ کے پاس جانے سے کس چیز نے روکا؟“ اس نے عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! میں آپ کے پاس سے رخصت ہو کر جب گھر پہنچا تو وہاں ایک بنی سنوری دلہن، کھجوریں اور دودھ موجود پایا، تو (ان نعمتوں پر شکر گزاری کے طور پر) مجھ پر یہ لازم تھا کہ میں اپنی رات صبح تک (عبادت میں) زندہ رکھوں۔“ تب آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے دیہاتی! اب جاؤ اور اپنی اہلیہ سے ملو۔“

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب النكاح / حدیث: 1584
درجۂ حدیث محدثین: إسناده موضوع
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :حديث موضوع. »
«أخرجه المنتخب من مسند عبد بن حميد برقم: 532»