أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا عَمَّارٌ أَبُو يَاسِرٍ ، ثَنَا هِشَامُ بْنُ زِيَادٍ ، ثَنَا أَبِي ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : إِنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : اللَّهُمَّ بَارِكْ لِأُمَّتِي فِي بُكُورِهَا .
ترجمہ
امام ابو یعلیٰ نے عمار ابو یاسر، ہشام بن زیاد، ان کے والد اور یوسف بن عبد اللہ بن سلام کے واسطے سے ان کے والد (سیدہ عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ) سے روایت کیا ہے کہ بیشک نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”«اللَّهُمَّ بَارِكْ لِأُمَّتِي فِي بُكُورِهَا» ”اے اللہ! میری امت کے لیے اس کے دن کے ابتدائی حصے (صبح سویرے) میں برکت عطا فرما۔““
وَحَدَّثَنَا عَمَّارٌ أَبُو يَاسِرٍ ، ثَنَا عَدِيُّ بْنُ الْفَضْلِ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَنْبَسَةَ ، قَالَا : ثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : إِنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : اللَّهُمَّ بَارِكْ لِأُمَّتِي فِي بُكُورِهَا .
ترجمہ
عمار ابو یاسر نے ہمیں حدیث بیان کی، وہ عدی بن فضل اور محمد بن عنبسہ سے، وہ عبید اللہ بن ابی بکر سے اور وہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ بے شک نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”«اللَّهُمَّ بَارِكْ لِأُمَّتِي فِي بُكُورِهَا» ”اے اللہ! میری امت کے لیے اس کے دن کے ابتدائی حصے (صبح سویرے) میں برکت عطا فرما“۔“
وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى ، ثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ أُسَامَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ نِسْطَاسٍ مَوْلَى كَثِيرِ بْنِ الصَّلْتِ ، حَدَّثَهُ عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : وَلَيْسَ الْغِنَى عَنْ كَثْرَةِ الْعَرَضِ ، وَلَكِنَّ الْغِنَى غِنَى النَّفْسِ ، وَإِنَّ اللهَ تَعَالَى يُؤْتِي عَبْدَهُ مَا كَتَبَ لَهُ مِنَ الرِّزْقِ ، فَأَجْمِلُوا فِي الطَّلَبِ ، خُذُوا مَا حَلَّ ، وَدَعُوا مَا حَرُمَ .
ترجمہ
احمد بن عیسیٰ نے ابن وہب کے واسطے سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”مالداری دنیاوی ساز و سامان کی کثرت کا نام نہیں ہے، بلکہ حقیقی مالداری تو نفس کا غنی ہونا ہے، اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو وہی رزق عطا فرماتا ہے جو اس کے لیے مقدر کر دیا گیا ہے، پس تم رزق کی تلاش میں اعتدال اور عمدہ طریقہ اختیار کرو، جو حلال ہو اسے حاصل کر لو اور جو حرام ہو اسے ترک کر دو۔“
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ وَاقِدٍ ، ثَنَا وَهْبُ بْنُ وَهْبٍ ، ثَنَا عَبَّادُ بْنُ كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : إِنَّ اللهَ تَعَالَى يُنْزِلُ الرِّزْقَ عَلَى قَدْرِ الْمُؤْنَةِ ، وَيُنْزِلُ الصَّبْرَ عَلَى قَدْرِ الْبَلَاءِ .
تَابَعَهُ عَبْدُ الْعَزِيزِ عَنْ طَارِقٍ عِنْدَ الْبَزَّارِ .
تَابَعَهُ عَبْدُ الْعَزِيزِ عَنْ طَارِقٍ عِنْدَ الْبَزَّارِ .
ترجمہ
امام حارث نے اپنی سند کے واسطے سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بے شک اللہ تبارک و تعالیٰ رزق کو اخراجات و ضروریات کے مطابق نازل فرماتا ہے، اور صبر کو آزمائش کی شدت کے مطابق نازل فرماتا ہے“، اور امام بزار کے ہاں اس روایت کی متابعت عبد العزیز نے طارق کے واسطے سے کی ہے۔