المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ البركة فِي البكور باب: صبح سویرے کی برکت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1355
وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى ، ثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ أُسَامَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ نِسْطَاسٍ مَوْلَى كَثِيرِ بْنِ الصَّلْتِ ، حَدَّثَهُ عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : وَلَيْسَ الْغِنَى عَنْ كَثْرَةِ الْعَرَضِ ، وَلَكِنَّ الْغِنَى غِنَى النَّفْسِ ، وَإِنَّ اللهَ تَعَالَى يُؤْتِي عَبْدَهُ مَا كَتَبَ لَهُ مِنَ الرِّزْقِ ، فَأَجْمِلُوا فِي الطَّلَبِ ، خُذُوا مَا حَلَّ ، وَدَعُوا مَا حَرُمَ .ترجمہ
احمد بن عیسیٰ نے ابن وہب کے واسطے سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”مالداری دنیاوی ساز و سامان کی کثرت کا نام نہیں ہے، بلکہ حقیقی مالداری تو نفس کا غنی ہونا ہے، اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو وہی رزق عطا فرماتا ہے جو اس کے لیے مقدر کر دیا گیا ہے، پس تم رزق کی تلاش میں اعتدال اور عمدہ طریقہ اختیار کرو، جو حلال ہو اسے حاصل کر لو اور جو حرام ہو اسے ترک کر دو۔“