❮
❯
مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، ثَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَطَاءٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : إِنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : مَنْ حَجَّ هَذَا الْبَيْتَ فَلْيَكُنْ آخِرَ عَهْدِهِ الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ ، وَرَخَّصَ لِلنِّسَاءِ .
ترجمہ
سیدنا عطا رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص بھی اس گھر (بیت اللہ) کا حج کرے، تو (روانگی کے وقت) اس کا آخری عمل بیت اللہ کا طواف ہونا چاہیے“ اور آپ ﷺ نے خواتین کے لیے (بوجہِ عذر) اس میں رخصت و رعایت عطا فرمائی ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الحج / حدیث: 1289
درجۂ حدیث محدثین: إسناده مرسل
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :مرسل. »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»
وَقَالَ إِسْحَاقُ : أَنَا وَكِيعٌ ، ثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ طَاوُسٍ ، قَالَ : مَا رَأَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ خَالَفَهُ أَحَدٌ فَسَكَتَ حَتَّى ... فَخَالَفَهُ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ فِي الْمَرْأَةِ الْحَائِضِ بَعْدَ مَا تَطُوفُ يَوْمَ النَّحْرِ ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : تَنْفِرُ . فَأَرْسَلُوا إِلَى امْرَأَةٍ كَانَ أَصَابَهَا ذَلِكَ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَافَقَتِ ابْنَ عَبَّاسٍ .
قُلْتُ : أَصْلُهُ فِي الصَّحِيحِ بِدُونِ ذِكْرِ جَابِرٍ ، وَسُمِّيَتْ أُمَّ سُلَيْمٍ .
ترجمہ
سیدنا طاؤس رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کسی نے علمی اختلاف کیا ہو اور وہ خاموش رہے ہوں، یہاں تک کہ ایک مرتبہ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے ان سے اس خاتون کے حکم میں اختلاف کیا جسے یومِ نحر کے طواف کے بعد حیض آ گیا ہو۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”وہ طوافِ وداع کیے بغیر روانہ ہو جائے۔“ چنانچہ لوگوں نے ایک ایسی خاتون کے پاس پیغام بھیجا جنہیں رسول اللہ ﷺ کے عہدِ مبارک میں یہی صورت پیش آئی تھی، تو ان کے جواب سے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے موقف کی تائید ہو گئی۔
مؤلف فرماتے ہیں: اس روایت کی اصل کتبِ صحیح میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے ذکر کے بغیر موجود ہے، اور وہاں اس خاتون کا نام سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا بیان ہوا ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الحج / حدیث: 1290
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :قال ابن حجر: أَصْلُهُ فِي الصَّحِيحِ بِدُونِ ذِكْرِ جَابِرٍ ، وَسُمِّيَتْ أُمَّ سُلَيْمٍ . »
«أخرجه المطالب العالية لابن حجر برقم: 4073، وأخرجه مصنف ابن أبي شيبة برقم: 13341»