المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ طَوَافِ الوداع باب: طوافِ وداع کا بیان۔
وَقَالَ إِسْحَاقُ : أَنَا وَكِيعٌ ، ثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ طَاوُسٍ ، قَالَ : مَا رَأَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ خَالَفَهُ أَحَدٌ فَسَكَتَ حَتَّى ... فَخَالَفَهُ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ فِي الْمَرْأَةِ الْحَائِضِ بَعْدَ مَا تَطُوفُ يَوْمَ النَّحْرِ ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : تَنْفِرُ . فَأَرْسَلُوا إِلَى امْرَأَةٍ كَانَ أَصَابَهَا ذَلِكَ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَافَقَتِ ابْنَ عَبَّاسٍ .
قُلْتُ : أَصْلُهُ فِي الصَّحِيحِ بِدُونِ ذِكْرِ جَابِرٍ ، وَسُمِّيَتْ أُمَّ سُلَيْمٍ .سیدنا طاؤس رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کسی نے علمی اختلاف کیا ہو اور وہ خاموش رہے ہوں، یہاں تک کہ ایک مرتبہ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے ان سے اس خاتون کے حکم میں اختلاف کیا جسے یومِ نحر کے طواف کے بعد حیض آ گیا ہو۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”وہ طوافِ وداع کیے بغیر روانہ ہو جائے۔“ چنانچہ لوگوں نے ایک ایسی خاتون کے پاس پیغام بھیجا جنہیں رسول اللہ ﷺ کے عہدِ مبارک میں یہی صورت پیش آئی تھی، تو ان کے جواب سے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے موقف کی تائید ہو گئی۔
مؤلف فرماتے ہیں: اس روایت کی اصل کتبِ صحیح میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے ذکر کے بغیر موجود ہے، اور وہاں اس خاتون کا نام سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا بیان ہوا ہے۔