کتب حدیث › المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب › باب: طواف کے دوران گفتگو کرنے کا بیان۔
❮
❯
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : بَيْنَمَا أَنَا أَطُوفُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ وَقَفَ وَتَبَسَّمَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، رَأَيْتُكَ وَقَفْتَ وَتَبَسَّمْتَ ؟ فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَقِيَنِي عِيسَى يَطُوفُ مَعَهُ مَلَكَانِ ، فَسَلَّمَ عَلَيَّ ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ .
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ بیان فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ طواف کر رہا تھا کہ اچانک آپ ﷺ رک گئے اور آپ کے لبِ مبارک پر تبسم بکھر گیا؛ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے دیکھا کہ آپ چلتے چلتے رک گئے اور مسکرا دیے (اس کی کیا وجہ ہے)؟ تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”مجھ سے عیسیٰ علیہ السلام کی ملاقات ہوئی ہے، وہ دو فرشتوں کے ہمراہ طواف کر رہے تھے، پس انہوں نے مجھے سلام کیا اور میں نے انہیں سلام کا جواب دیا“۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الحج / حدیث: 1211
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف. »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، ثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : رَأَيْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ وَهُوَ يَحْدُو وَعَلَيْهِ خُفَّانِ ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : مَا أَدْرِي أَيُّهُمَا أَعْجَبُ ، حِدَاؤُكَ حَوْلَ الْبَيْتِ ، أَوْ طَوَافُكَ فِي نَعْلَيْكَ ، قَالَ : قَدْ فَعَلْتُ هَذَا عَلَى عَهْدِ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ ، رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمْ يَعِبْ ذَلِكَ عَلَيَّ .
1212 \ 2 - حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، ثَنَا شَرِيكٌ ، فَذَكَرَهُ .
ترجمہ
امام ابو یعلیؒ نے روایت کیا ہے کہ سیدنا عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے دیکھا، وہ (رواں آواز میں) حدی خوانی کر رہے تھے اور انہوں نے چمڑے کے موزے پہن رکھے تھے، تو سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ان سے (بطورِ تعجب) فرمایا: ”مجھے سمجھ نہیں آ رہا کہ ان دونوں میں سے کون سی بات زیادہ عجیب ہے؛ بیت اللہ کے گرد تمہارا یہ اشعار پڑھنا یا تمہارا موزوں سمیت طواف کرنا؟“ انہوں نے جواب دیا: ”میں نے یہ عمل اس ہستی کے عہدِ مبارک میں کیا ہے جو آپ سے کہیں بہتر تھے، یعنی اللہ کے رسول ﷺ، اور آپ ﷺ نے میرے اس فعل پر کوئی عیب یا گرفت نہیں فرمائی تھی۔“
اسی روایت کو ایک دوسری سند کے ساتھ امام ابو یعلیؒ نے سوید بن سعید کے واسطے سے بھی نقل کیا ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الحج / حدیث: 1212
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف. »
«أخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 4898، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 2556»