❮
❯
حدیث نمبر: 1211
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : بَيْنَمَا أَنَا أَطُوفُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ وَقَفَ وَتَبَسَّمَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، رَأَيْتُكَ وَقَفْتَ وَتَبَسَّمْتَ ؟ فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَقِيَنِي عِيسَى يَطُوفُ مَعَهُ مَلَكَانِ ، فَسَلَّمَ عَلَيَّ ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ .
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ بیان فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ طواف کر رہا تھا کہ اچانک آپ ﷺ رک گئے اور آپ کے لبِ مبارک پر تبسم بکھر گیا؛ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے دیکھا کہ آپ چلتے چلتے رک گئے اور مسکرا دیے (اس کی کیا وجہ ہے)؟ تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”مجھ سے عیسیٰ علیہ السلام کی ملاقات ہوئی ہے، وہ دو فرشتوں کے ہمراہ طواف کر رہے تھے، پس انہوں نے مجھے سلام کیا اور میں نے انہیں سلام کا جواب دیا“۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الحج / حدیث: 1211
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف. »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»