قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْأَسْوَدِ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ إِبْرَاهِيمَ النَّبِيَّ عَلَيْهِ السَّلَامُ هُوَ أَوَّلُ مَنْ نَصَبَ الْأَنْصَابَ لِلْحَرَمِ ، أَشَارَ لَهُ جِبْرِيلُ إِلَى مَوَاضِعِهَا .
ترجمہ
محمد بن اسود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بے شک اللہ کے نبی سیدنا ابراہیم علیہ السلام وہ اولین شخصیت ہیں جنہوں نے حدودِ حرم کے نشانات نصب فرمائے، اور سیدنا جبرائیل علیہ السلام ان نشانات کے مقررہ مقامات کی جانب اشارہ کر کے آپ علیہ السلام کی رہنمائی فرما رہے تھے۔
قَالَ : وَأَخْبَرَنِي أَيْضًا : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ تَمِيمَ بْنَ أَسِيدٍ جَدَّ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ تَمِيمٍ ، فَحَدَّدَهَا .
ترجمہ
راوی بیان کرتے ہیں کہ مجھے مزید یہ خبر بھی دی گئی کہ نبی کریم ﷺ نے فتحِ مکہ کے موقع پر سیدنا تمیم بن اسید رضی اللہ عنہ کو، جو عبد الرحمٰن بن المطلب بن تمیم کے دادا ہیں، (حدودِ حرم کی علامات درست کرنے کا) حکم دیا، چنانچہ انہوں نے ان علامات کو از سرِ نو متعین اور نصب کیا۔
شارحینِ حدیث کے مطابق اس سے مراد حرمِ مکہ کی ان قدیم حدود کی تجدید و اصلاح تھی جنہیں سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے حضرت جبریل علیہ السلام کی راہنمائی میں متعین کیا تھا تاکہ حدودِ حرم کی حرمت برقرار رہے اور شناخت میں کوئی شبہ باقی نہ رہے۔
شارحینِ حدیث کے مطابق اس سے مراد حرمِ مکہ کی ان قدیم حدود کی تجدید و اصلاح تھی جنہیں سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے حضرت جبریل علیہ السلام کی راہنمائی میں متعین کیا تھا تاکہ حدودِ حرم کی حرمت برقرار رہے اور شناخت میں کوئی شبہ باقی نہ رہے۔
وَقَالَ أَيْضًا : حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ ثَابِتٍ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ أَبِي الْأَخْضَرِ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : وَجَدَتْ قُرَيْشٌ حَجَرًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ فِيهِ كِتَابٌ ، فَجَعَلُوا يُخْرِجُونَهُ إِلَى مَنْ أَتَاهُمْ مِنْ أَهْلِ الْكُتُبِ ، فَلَا يَعْلَمُونَ مَا فِيهِ ، حَتَّى أَتَاهُمْ حَبْرٌ مِنَ الْيَمَنِ ، فَقَرَأَهُ عَلَيْهِمْ ، فَإِذَا فِيهِ : أَنَا اللهُ ذُو بَكَّةَ صَنَعْتُهَا حِينَ صَنَعْتُ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ ، وَبَارَكْتُ لِأَهْلِهَا فِي اللَّحْمِ وَاللَّبَنِ وَفِي الصَّفْحِ الْآخَرِ : أَنَا اللهُ ذُو بَكَّةَ ، خَلَقْتُ الرَّحِمَ وَشَقَقْتُ لَهَا مِنِ اسْمِي ، فَمَنْ وَصَلَهَا وَصَلْتُهُ ، وَمَنْ قَطَعَهَا بَتَتُّهُ ، وَفِي الصَّفْحِ الْآخَرِ : أَنَا اللهُ ذُو بَكَّةَ ، خَلَقْتُ الْخَيْرَ وَالشَّرَّ ، فَطُوبَى لِمَنْ كَانَ الْخَيْرُ عَلَى يَدَيْهِ ، وَوَيْلٌ لِمَنْ كَانَ الشَّرُّ عَلَى يَدَيْهِ .
ترجمہ
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ زمانہ جاہلیت میں قریش کو مقامِ ابراہیم سے ایک پتھر ملا جس پر کچھ تحریر نقش تھی، وہ اس تحریر کو ہر اس اہل کتاب کے سامنے پیش کرتے جو ان کے پاس آتا مگر وہ اسے پڑھنے سے قاصر رہتے، یہاں تک کہ یمن کا ایک جید عالم ان کے پاس آیا اور اس نے وہ عبارت انہیں پڑھ کر سنائی جس میں لکھا تھا: ”میں ہی اللہ ہوں، بکہ ﴿آل عمران: 96﴾ کا رب، میں نے اس شہر کو اسی وقت بنایا تھا جب میں نے سورج اور چاند کی تخلیق کی تھی، اور میں نے یہاں کے باسیوں کے لیے گوشت اور دودھ میں برکت مقدر کر دی ہے“، اور اس پتھر کے دوسرے پہلو پر درج تھا: ”میں ہی اللہ ہوں، بکہ کا رب، میں نے رحم (رشتہ داری) کو پیدا کیا اور اس کا نام اپنے نام سے نکالا ہے، پس جس نے اسے جوڑا میں اسے (اپنی رحمت سے) جوڑوں گا اور جس نے اسے توڑ دیا میں اسے قطع کر دوں گا“، اور اس کے تیسرے رخ پر مرقوم تھا: ”میں ہی اللہ ہوں، بکہ کا رب، میں نے ہی خیر اور شر کو پیدا کیا، پس خوشخبری ہے اس کے لیے جس کے ہاتھوں پر خیر کو جاری کیا گیا، اور ہلاکت ہے اس کے لیے جس کے ہاتھوں پر شر کو جاری کیا گیا“۔
وَقَالَ أَبُو نُعَيْمٍ فِي الْمَعْرِفَةِ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ هُوَ أَبُو الشَّيْخِ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ رُسْتَهْ ، ثَنَا عَمْرُو بْنُ مَالِكٍ الرَّاسِبِيُّ ، ثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، ثَنَا ابْنُ خُثَيْمٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو الطُّفَيْلِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ تَمِيمَ بْنَ أَسِيدٍ الْخُزَاعِيَّ يُجَدِّدُ أَنْصَابَ الْحَرَمِ ، وَكَانَ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَضَعَهَا ، يُرِيهَا إِيَّاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ .
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت تمیم بن اسید الخزاعی رضی اللہ عنہ کو حدودِ حرم کے علامتی نشانات کی تجدید و اصلاح کے لیے مامور فرمایا؛ اور ان علامات کو سب سے پہلے سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے نصب کیا تھا جن کے مقامات کی نشاندہی انہیں سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے فرمائی تھی۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الضَّحَّاكِ ، ثَنَا أَبِي ، ثَنَا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ طَلْحَةَ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنِ اسْتَحَلَّ شَيْئًا مِنْ حُدُودِ مَكَّةَ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللهِ . الْحَدِيثَ .
ترجمہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جس کسی نے مکہ مکرمہ کی حدود و حرمت میں سے کسی بھی ممنوعہ شے کو حلال ٹھہرایا، تو اس پر اللہ کی لعنت ہے“۔