المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ حَدِّ الْحَرَمِ باب: حدودِ حرم کا بیان۔
وَقَالَ أَيْضًا : حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ ثَابِتٍ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ أَبِي الْأَخْضَرِ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : وَجَدَتْ قُرَيْشٌ حَجَرًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ فِيهِ كِتَابٌ ، فَجَعَلُوا يُخْرِجُونَهُ إِلَى مَنْ أَتَاهُمْ مِنْ أَهْلِ الْكُتُبِ ، فَلَا يَعْلَمُونَ مَا فِيهِ ، حَتَّى أَتَاهُمْ حَبْرٌ مِنَ الْيَمَنِ ، فَقَرَأَهُ عَلَيْهِمْ ، فَإِذَا فِيهِ : أَنَا اللهُ ذُو بَكَّةَ صَنَعْتُهَا حِينَ صَنَعْتُ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ ، وَبَارَكْتُ لِأَهْلِهَا فِي اللَّحْمِ وَاللَّبَنِ وَفِي الصَّفْحِ الْآخَرِ : أَنَا اللهُ ذُو بَكَّةَ ، خَلَقْتُ الرَّحِمَ وَشَقَقْتُ لَهَا مِنِ اسْمِي ، فَمَنْ وَصَلَهَا وَصَلْتُهُ ، وَمَنْ قَطَعَهَا بَتَتُّهُ ، وَفِي الصَّفْحِ الْآخَرِ : أَنَا اللهُ ذُو بَكَّةَ ، خَلَقْتُ الْخَيْرَ وَالشَّرَّ ، فَطُوبَى لِمَنْ كَانَ الْخَيْرُ عَلَى يَدَيْهِ ، وَوَيْلٌ لِمَنْ كَانَ الشَّرُّ عَلَى يَدَيْهِ .سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ زمانہ جاہلیت میں قریش کو مقامِ ابراہیم سے ایک پتھر ملا جس پر کچھ تحریر نقش تھی، وہ اس تحریر کو ہر اس اہل کتاب کے سامنے پیش کرتے جو ان کے پاس آتا مگر وہ اسے پڑھنے سے قاصر رہتے، یہاں تک کہ یمن کا ایک جید عالم ان کے پاس آیا اور اس نے وہ عبارت انہیں پڑھ کر سنائی جس میں لکھا تھا: ”میں ہی اللہ ہوں، بکہ ﴿آل عمران: 96﴾ کا رب، میں نے اس شہر کو اسی وقت بنایا تھا جب میں نے سورج اور چاند کی تخلیق کی تھی، اور میں نے یہاں کے باسیوں کے لیے گوشت اور دودھ میں برکت مقدر کر دی ہے“، اور اس پتھر کے دوسرے پہلو پر درج تھا: ”میں ہی اللہ ہوں، بکہ کا رب، میں نے رحم (رشتہ داری) کو پیدا کیا اور اس کا نام اپنے نام سے نکالا ہے، پس جس نے اسے جوڑا میں اسے (اپنی رحمت سے) جوڑوں گا اور جس نے اسے توڑ دیا میں اسے قطع کر دوں گا“، اور اس کے تیسرے رخ پر مرقوم تھا: ”میں ہی اللہ ہوں، بکہ کا رب، میں نے ہی خیر اور شر کو پیدا کیا، پس خوشخبری ہے اس کے لیے جس کے ہاتھوں پر خیر کو جاری کیا گیا، اور ہلاکت ہے اس کے لیے جس کے ہاتھوں پر شر کو جاری کیا گیا“۔