کتب حدیث › المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب › باب: بوڑھے، حاملہ اور دودھ پلانے والی عورت کے لیے روزہ چھوڑنے کی اجازت کا بیان۔
❮
❯
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ ، ثَنَا أَبِي ، ثَنَا عِمْرَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ أَبِي تَمِيمَةَ ، قَالَ : ضَعُفَ أَنَسٌ عَنِ الصَّوْمِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَصَنَعَ جَفْنَةً مِنْ ثَرِيدٍ ، فَدَعَا ثَلَاثِينَ مِسْكِينًا فَأَطْعَمَهُمْ .
ترجمہ
امام ابو یعلیٰ فرماتے ہیں کہ ہمیں عبید اللہ بن معاذ نے بیان کیا، وہ اپنے والد سے اور وہ عمران کے واسطے سے روایت کرتے ہیں کہ ایوب بن ابی تمیمہ نے بیان کیا کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بڑھاپے کی وجہ سے روزے رکھنے سے معذور (نہایت کمزور) ہو گئے، چنانچہ آپ رضی اللہ عنہ نے ثرید (گوشت کے شوربے میں تیار کردہ روٹی) کا ایک بڑا لگن تیار کروایا، پھر تیس مسکینوں کو مدعو کیا اور انہیں پیٹ بھر کر کھانا کھلایا۔
وضاحت: ائمہ حدیث و فقہ اس اثر سے یہ استنباط کرتے ہیں کہ جو بوڑھا شخص یا ایسا دائمی مریض جس کے صحت یاب ہونے کی امید نہ ہو، اگر وہ روزہ رکھنے کی طاقت نہ رکھتا ہو تو وہ ہر روزے کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلائے گا، جیسا کہ قرآنِ کریم میں ارشاد ہے: ﴿وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ﴾ [سورہ البقرہ: 184]۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الصيام / حدیث: 1046
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :رجاله ثقات. »
«أخرجه السنن الكبرى للبيهقي برقم: 8410، وأخرجه سنن الدارقطني برقم: 2390، وأخرجه مسند أبي يعلى برقم: 4194، وأخرجه مصنف عبد الرزاق برقم: 7570، وأخرجه مصنف ابن أبي شيبة برقم: 12346، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 675»
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَزْرَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : الْحَامِلُ وَالْمُرْضِعُ إِذَا خَافَتَا أَفْطَرَتَا وَأَطْعَمَتَا ، وَلَا قَضَاءَ عَلَيْهِمَا . إِسْنَادُهُ حَسَنٌ .
وَقَدْ أَخْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ دُونَ قَوْلِهِ : وَلَا قَضَاءَ عَلَيْهِمَا .
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”حاملہ اور دودھ پلانے والی عورتیں جب (روزہ رکھنے کی صورت میں اپنی یا بچے کی صحت کا) خوف محسوس کریں تو وہ روزہ چھوڑ دیں اور (بطور فدیہ مسکین کو) کھانا کھلائیں، ان پر ان روزوں کی قضا لازم نہیں ہے۔“ اس روایت کی سند حسن ہے۔
امام ابو داؤد نے بھی اس حدیث کو اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے، تاہم ان کی روایت میں یہ الفاظ مذکور نہیں ہیں کہ ”ان پر ان روزوں کی قضا لازم نہیں ہے“۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الصيام / حدیث: 1047
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :رجاله ثقات. »
«أخرجه صحيح البخاري برقم: 4505، وأخرجه المنتقى لابن الجارود برقم: 418، وأخرجه الأحاديث المختارة للضياء برقم: 81، وأخرجه المستدرك للحاكم برقم: 1612، وأخرجه سنن النسائي برقم: 2316 / 2، وأخرجه السنن الكبرى للنسائي برقم: 2638، وأخرجه سنن أبي داود برقم: 2316، وأخرجه السنن الكبرى للبيهقي برقم: 8173، وأخرجه سنن الدارقطني برقم: 2374، وأخرجه مسند البزار برقم: 4996، وأخرجه مصنف عبد الرزاق برقم: 7567، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 11388»