کتب حدیث ›
المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب
› باب: خرچ کرنے کے معاملے میں اپنے اہل و عیال سے ابتدا کرنے کا بیان۔
إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُسْلِمٍ الْهَجَرِيِّ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - عَنْ رَسُولِ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : إِذَا أَعْطَاكَ اللهُ تَعَالَى خَيْرًا ، فَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ ، وَارْتَضِخْ مِنَ الْفَضْلِ ، وَلَا تُلَامُ عَلَى الْكَفَافِ ، وَلَا تَعْجِزْ عَنْ نَفْسِكَ .
ترجمہ
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جب اللہ تعالیٰ تمہیں خیر (مال و دولت) عطا فرمائے تو (اس کے خرچ کی) ابتدا ان سے کرو جو تمہاری زیرِ کفالت ہیں، اور اپنی ضرورت سے زائد میسر مال میں سے (دوسروں کو بھی) کچھ نہ کچھ دیا کرو، اور محض بقدرِ ضرورت مال اپنے پاس روک لینے پر تم پر کوئی ملامت نہیں ہے، اور اپنی ذات کی ضروریات پوری کرنے سے عاجز نہ رہو۔“
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ خَالِدٍ هُوَ أَبُو شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ ، قَالَ : رَأَيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - يَطُوفُ بِهَذَا الْبَيْتِ ، يُنَادِي : لَا صَدَقَةَ إِلَّا عَنْ فَضْلِ الْعِيَالِ .
ترجمہ
عطاء بن ابی رباح سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ: میں نے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو اس بیت اللہ کا طواف کرتے دیکھا، جبکہ وہ اونچی آواز سے پکار رہے تھے: ”کوئی صدقہ (قبول یا افضل) نہیں مگر وہی جو اہل و عیال کی ضروریات سے زائد مال سے ہو“