المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الزكاة— زکوٰۃ کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الْبَدَاءَةِ بِالْعِيَالِ فِي الْإِنْفَاقِ باب: خرچ کرنے کے معاملے میں اپنے اہل و عیال سے ابتدا کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 926
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ خَالِدٍ هُوَ أَبُو شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ ، قَالَ : رَأَيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - يَطُوفُ بِهَذَا الْبَيْتِ ، يُنَادِي : لَا صَدَقَةَ إِلَّا عَنْ فَضْلِ الْعِيَالِ .ترجمہ
عطاء بن ابی رباح سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ: میں نے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو اس بیت اللہ کا طواف کرتے دیکھا، جبکہ وہ اونچی آواز سے پکار رہے تھے: ”کوئی صدقہ (قبول یا افضل) نہیں مگر وہی جو اہل و عیال کی ضروریات سے زائد مال سے ہو“