قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، ثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ ، عَنْ أَسْمَاءَ ، أَنَّهَا كَانَتْ لَا تُزَكِّي الْحُلِيَّ .
ترجمہ
فاطمہ بنت منذر رحمہا اللہ، سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا سے روایت کرتی ہیں کہ وہ اپنے زیورات کی زکوٰۃ ادا نہیں کیا کرتی تھیں۔
وَقَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ أَنَّ امْرَأَةَ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللهِ ، إِنَّ لِي حُلِيًّا ، وَإِنَّ فِي حِجْرِي أَيْتَامًا ، أَمَا أَجْعَلُ زَكَاةَ حُلِيِّي لَهُمْ ؟ ، فَقَالَ : نَعَمْ .
ترجمہ
امام ابراہیم رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی زوجہ محترمہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میرے پاس زیورات ہیں اور میری کفالت میں کچھ یتیم بچے بھی ہیں، تو کیا میں اپنے زیورات کی زکوٰۃ انہیں دے دوں؟ اس پر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”ہاں۔“