المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الزكاة— زکوٰۃ کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ زَكَاةِ الْحُلِيِّ باب: زیورات کی زکوٰۃ کا بیان۔
حدیث نمبر: 920
وَقَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ أَنَّ امْرَأَةَ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللهِ ، إِنَّ لِي حُلِيًّا ، وَإِنَّ فِي حِجْرِي أَيْتَامًا ، أَمَا أَجْعَلُ زَكَاةَ حُلِيِّي لَهُمْ ؟ ، فَقَالَ : نَعَمْ .ترجمہ
امام ابراہیم رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی زوجہ محترمہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میرے پاس زیورات ہیں اور میری کفالت میں کچھ یتیم بچے بھی ہیں، تو کیا میں اپنے زیورات کی زکوٰۃ انہیں دے دوں؟ اس پر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”ہاں۔“