إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : هَذَا كِتَابٌ كَتَبَهُ رَسُولُ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِعَمْرِو بْنِ حَزْمٍ فِي فَرَائِضِ الْإِبِلِ وَالْغَنَمِ : وَفِي الْغَنَمِ إِذَا بَلَغَتْ أَرْبَعِينَ شَاةً شَاةٌ ، حَتَّى تَبْلُغَ عِشْرِينَ وَمِائَةً ، فَإِذَا جَاوَزَتْ عِشْرِينَ وَمِائَةً فَفِيهَا شَاتَانِ ، حَتَّى تَبْلُغَ مِائَتَيْنِ ، فَإِذَا جَاوَزَتْ مِائَتَيْنِ فَفِيهَا ثَلَاثُ شِيَاهٍ حَتَّى تَبْلُغَ ثَلَاثَمِائَةٍ ، فَإِذَا جَاوَزَتْ ثَلَاثَمِائَةٍ فَكَانَتْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ تُعَدُّ فِي كُلِّ مِائَةِ شَاةٍ : شَاةٌ . وَفِي الْإِبِلِ فِي خَمْسٍ وَعِشْرِينَ بِنْتُ مَخَاضٍ ، فَإِنْ لَمْ تُوجَدْ فَابْنُ لَبُونٍ ، فَإِذَا بَلَغَتْ سِتًّا وَثَلَاثِينَ فَفِيهَا بِنْتُ لَبُونٍ ، فَإِذَا بَلَغَتْ سِتًّا وَأَرْبَعِينَ فَفِيهَا حِقَّةٌ حَتَّى تَبْلُغَ سِتِّينَ ، ثُمَّ فِيهَا جَذَعَةٌ حَتَّى تَبْلُغَ خَمْسًا وَسَبْعِينَ ، فَإِنَّ فِيهَا بِنْتَا لَبُونٍ حَتَّى تَبْلُغَ تِسْعِينَ ، فَإِذَا زَادَتْ فَفِيهَا حِقَّتَانِ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ ، فَإِذَا عَادَتْ تُعَدْ إِلَى أَوَّلِ فَرِيضَةٍ مِنَ الْإِبِلِ شَاةٍ ، حَتَّى تَبْلُغَ عِشْرِينَ وَمِائَةً ، فَإِذَا كَثُرَتْ فَفِي كُلِّ خَمْسِينَ حِقَّةٌ .
قَالَ حَمَّادٌ : أَخْبَرَنَا بِذَلِكَ قَيْسُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ .
قَالَ حَمَّادٌ : أَخْبَرَنَا بِذَلِكَ قَيْسُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ .
ترجمہ
حماد بن سلمہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: ”یہ وہ مکتوب ہے جو رسول اللہ ﷺ نے عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کے لیے اونٹوں اور بکریوں کے فرائضِ زکوٰۃ کے بارے میں تحریر فرمایا تھا: بکریاں جب چالیس ہو جائیں تو ایک سو بیس تک ان میں ایک بکری واجب ہے۔ جب ایک سو بیس سے بڑھ جائیں تو دو سو تک دو بکریاں، اور جب دو سو سے بڑھ جائیں تو تین سو تک تین بکریاں واجب ہیں۔ جب تین سو سے زیادہ ہو جائیں تو ہر ایک سو بکریوں میں ایک بکری واجب ہوگی۔ اونٹوں میں پچیس پر ایک بنتِ مخاض، یعنی ایک سال مکمل کرکے دوسرے سال میں داخل ہونے والی اونٹنی واجب ہے، اور اگر وہ موجود نہ ہو تو ایک ابنِ لبون، یعنی دو سال مکمل کرکے تیسرے سال میں داخل ہونے والا نر اونٹ دیا جائے۔ جب اونٹ چھتیس ہو جائیں تو ایک بنتِ لبون، یعنی دو سال مکمل کرکے تیسرے سال میں داخل ہونے والی اونٹنی واجب ہے۔ جب چھیالیس ہو جائیں تو ساٹھ تک ایک حقہ، یعنی تین سال مکمل کرکے چوتھے سال میں داخل ہونے والی اونٹنی واجب ہے۔ پھر پچھتر تک ایک جذعہ، یعنی چار سال مکمل کرکے پانچویں سال میں داخل ہونے والی اونٹنی واجب ہے۔ پھر نوے تک دو بنتِ لبون اور نوے سے بڑھ کر ایک سو بیس تک دو حقے واجب ہیں۔ پھر جب تعداد اس سے بڑھ جائے تو زائد اونٹوں کو اونٹوں کے پہلے فریضے، یعنی ایک بکری، سے شمار کیا جائے گا، یہاں تک کہ وہ ایک سو بیس تک پہنچ جائیں، اور جب اونٹ بہت زیادہ ہوں تو ہر پچاس میں ایک حقہ واجب ہوگا۔“
حماد بن سلمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمیں یہ مکتوب قیس بن سعد نے ابوبکر بن عمرو بن حزم کے واسطے سے بیان کیا ہے۔
حماد بن سلمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمیں یہ مکتوب قیس بن سعد نے ابوبکر بن عمرو بن حزم کے واسطے سے بیان کیا ہے۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَيُّوبَ ، وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ السَّرَّاحِ ، وَعُبَيْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ يُحَدِّثُونَ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّهُ قَرَأَ كِتَابَ عُمَرَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسٍ مِنَ الْإِبِلِ شَيْءٌ .... الْحَدِيثَ . مِثْلُ كِتَابِ أَبِي بَكْرٍ لِأَنَسٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - .
ترجمہ
امام ابو یعلیٰ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ابو الربیع نے ہمیں حدیث سنائی، انہیں حماد بن زید رحمہ اللہ نے بتایا کہ میں نے ایوب، عبدالرحمن بن السراح اور عبیداللہ بن عمر کو نافع رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہوئے سنا کہ انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا مکتوب پڑھا، جس میں تھا: ”پانچ سے کم اونٹوں میں زکوٰۃ واجب نہیں۔“ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔ یہ مکتوب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے اس مکتوب کی مانند ہے جو انہوں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے لیے تحریر فرمایا تھا۔